اپریل 02, 2020

حملے و دعوت،15 سرنڈر، 5 گرفتار، 4 ہلاک

حملے و دعوت،15 سرنڈر، 5 گرفتار، 4 ہلاک

الفتح آپریشن کے سلسلے میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے بدخشان، جوزجان، ننگرہار، قندوز اور لوگر صوبوں میں دشمن کو نشانہ بنایا، جب کہ صوبہ بغلان میں سیکورٹی اہلکار مخالفت سے دستبردار ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق منگل کےروز صوبہ بدخشان ضلع مایمے کے مرکز کے قریب مجاہدین نے کاروائی کے دوران 5 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا اور ضلع تشکان کے پرانہ گاؤں کے  رہائشی پولیس اہلکار عزیزاللہ نے مخالفت سے دستبرداری کا اعلان کیا۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ بغلان ضلع مرکزی بغلان کے مختلف علاقوں کے رہائشی 13 سیکورٹی اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبردار ہوئے، جن میں عبدالشکور ولد محمدنبی، محمد قسیم ولد محمدبشیر،نصرت اللہ ولد عصمت اللہ، مطیع اللہ ولد عبدالحبیب، داد اللہ ولد عبدالودود، بشیراحمد ولد اختر محمد، فیض محمد ولد غلام رسول، سیف الرحمن ولد سیدرحمن، قربان نظر ولد خدائے داد، شیرگل ولد غلام رسول، عبدالغنی ولد محمدمنصور، شریف اللہ ولد حمیداللہ اور جمعہ گل ولد امین اللہ شامل ہیں۔

دوسری جانب مذکورہ ضلع کے سرک دوازہ کے علاقے پر واقع چوکی پر مجاہدین نے رات کے وقت حملہ کرکے اللہ تعالی کی نصرت سے اس پر قابض ہوئے اور وہاں  تعینات اہلکار فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

اسی طرح صوبہ جوزجان ضلع آقچہ کے حیدرآباد کے باشندے افغان فوجی ذبیح اللہ ولد محمد ابراہیم نے مجاہدین کی دعوت کو قبول کرکے ان سے آملے، جب کہ پل نوع کے علاقے میں چوکی پر حملے کے دوران ایک جنگجو مارا گیا۔

نیز صوبہ ننگرہار ضلع شیرزاد کے کدی خیل کے علاقے میں مجاہدین کے حملے میں ایک فوجی ہلاک جب کہ دوسرا زخمی ہوا۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ قندوز ضلع خان آباد کے نیک پائے کےعلاقے میں مجاہدین کے حملے میں منگل کےروز صبح کے وقت شاہ محمد نامی پولیس اہلکار ہلاک ہوا۔

دریں اثناء صوبہ لوگر ضلع محمدآغہ کے مربوطہ علاقے میں مجاہدین کےاسی نوعیت حملے میں ایک فوجی قتل ہوا۔

Related posts