جون 04, 2020

امارت اسلامیہ نے ملک کو جارگیرداروں سے بچایا

امارت اسلامیہ نے ملک کو جارگیرداروں سے بچایا

تحریر: مولوی احمد اللہ وثیق
کالم نگار ، شاعر اور صحافی
افغانستان پر وویت یونین کی دس سالہ یلغار کے بعد افغان مجاہد قوم کے مقدس جہاد اور مزاحمت کی بدولت سرخ لشکر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، روسی افواج کے انخلا کے تین سال بعد 1992 میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی کٹھ پتلی حکومت کا خاتمہ ہوا، مجاہدین کا اسلامی انقلاب کامیاب ہوا اور جہادی تنظیموں کے رہنماؤں نے زمام اقتدار سنبھال لیا، عوام کو توقع تھی کہ روسی جارحیت کے خاتمے کے بعد اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے نتیجے میں مظلوم قوم کے زخموں پر مداوا رکھنے کا وقت آیا ہے، لیکن بدقسمتی سے افغان عوام مزید مسائل، مصائب اور مشکلات سے دوچار ہو گئے ۔
کچھ تنظیمی رہنماؤں کے ارادوں میں فرق تھا، وہ اللہ تعالی کے فضل و کرم اور مدد کو بھول گئے ، مادیت سے پیار کرنے لگے ، دوسروں کی مدد پر بھروسہ کیا، اور ذاتی مفادات اور عہدوں کے حصول کے لئے آپس میں دست و گریبان ہو گئے، ملک میں خانہ جنگی شروع ہوئی، لاکھوں شہداء ، بیواؤں ، یتیموں اور مظلوم افغانوں کی امنگوں کے خلاف انہوں نے ملک میں تباہی مچا دی، اقتدار اور اختیار کے جذبے میں مظلوم افغانوں کی توقعات اور خواہشات سے تاریخی ظلم اور خیانت کی ۔
نوے کی دہائی میں جہادی تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں کے باہمی اختلافات عروج پر پہنچ گئے، ملک کے طول و عرض میں قتل و غارت، بدامنی اور انتشار کا دورہ شروع ہوا، صرف دارالحکومت کابل میں متحارب گروہوں کے درمیان جنگوں میں 60 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے، ہزاروں مزید معذور ہوگئے اور کابل شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوا ۔
ملک میں خانہ جنگی اور خونریزی کی وجہ سے مرکزی حکومت کی رٹ ختم ہوئی، ایوان صدر میں مسند اقتدار پر براجماں شخص کا دائرہ اختیار محدود ہو کر رہ گیا، پورے افغانستان کے ساتھ ان کے تعلقات منقطع ہوگئے، ہر صوبے اور ہر شہر میں الگ الگر حکمران بن گئے ۔
ملک کی قومی دولت ، ذخائر اور معدنیات اور مجموعی طور پر محصولات پر مقامی کمانڈر قابض ہو گئے ، جاگیرداروں اور طاقتور کمانڈروں نے اپنے اپنے علاقوں میں ڈیرے ڈال دیئے ۔
دیہات اور شہروں میں جنگجو کمانڈروں کا راج تھا، ہر کمانڈر نے اپنے گھر اور تھانہ کے سامنے چوکی قائم کی تھی، وہ مسافروں سے بھتہ اور زبردستی بھاری ٹیکس وصول کرتے تھے ۔
ہرج اور مرج کے اس دور میں بدامنی کی وجہ سے ہر سمت خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا، قومی شاہراہوں اور بڑے شہروں میں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں تھے، بدامنی کا دور دورہ تھا، ہر شخص کے سر پر خوف کا بھوت سوار تھا، دن دیہاڑے چوری اور ڈکیتی کی واردات ہوتی تھیں، قتل و غارت کی وجہ سے لوگ ا پنے گھروں میں محفوظ نہیں تھے، جو لوگ خواتین اور بچوں کے ساتھ سفر کرتے تھے، چوکیوں پر ان کے ساتھ غلیظ واقعات رونما ہوتے تھے، جس کی وجہ سے لوگ دلبرداشتہ ہو گئے تھے ۔
اس ملک پر عملا جاگیرداروں کی حکومت تھی، ہر علاقے میں جاگیرداروں نے چوکیاں قائم کی تھیں اور لوگوں کو لوٹ رہے تھے، ملک میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی تھی، اور ہر فریق اپنے دائرہ اختیار کو وسعت دینے کے لئے کسی قسم کے ظلم سے دریغ نہیں کرتا تھا ۔
اقتدار اور طاقت کے نشے میں دھت جاگیرداروں کی پشت پر اسلام اور افغان دشمن غیر ملکی قوتیں کھڑی تھیں، انہیں واحد افغانستان کے بجائے شمال اور جنوب، مشرق اور مغرب کے نام پر تقسیم کیا تھا، زبان اور قومیت کے نام پر تقسیم کیا تھا، تنظیمی اختلافات کی وجہ سے صرف دارالحکومت کابل میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے، دشمن نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے ملک کو تقسیم کرنے کے سنگین خطرے سے دوچار کیا تھا ۔
اس وقت ملک میں دہشت ، ظلم اور شر و فساد کی خوفناک صورتحال کو دیکھنے اور سننے کی طاقت کسی میں نہیں تھی، افغانستان کے مظلوم عوام کو اس صورتحال سے نجات دلانے کے لئے کوئی راستہ نہیں تھا، لوگ بے بس اور اس صورتحال سے شدید مایوس ہو گئے تھے، لوگوں کی نگاہیں کسی ایسی قوت کی طرف مرکوز تھیں کہ انہیں اس خوفناک صورتحال سے نجات دلائے اور ملک کو تقسیم ہونے سے بچائے ۔
مذکورہ مخدوش صورتحال، بدامنی ، انتشار، ملک کی تقسیم کے خطرات کی روک تھام اور شر و فساد کے خاتمے کے لئے بہت سارے لوگوں نے جدوجہد شروع کرنے پر غور کیا ہوگا لیکن یہ اقدام کے لئے کسی مخلص مومن کے مضبوط عزم اور ارادے کی ضرورت تھی، یہ بھاری بوجھ اور ذمہ داری اٹھانے کے لئے مسجد کے طالب علم ملا محمد عمر مجاہد نے اس تحریک کا آغاز کیا، مسلمان اور مجاہد قوم کے دفاع اور تحفظ کے لئے مساجد اور دینی مدارس کے طالبان پر مشتمل جہادی تحریک قائم کر کے قندھار کے ضلع میوند سے اپنی تحریک کا آغاز کیا، انہوں نے پہلے قریبی علاقوں سے اللہ کی مدد سے رکاوٹیں ختم اور جاگیرداروں کے مراکز بند کردیئے۔ اس کے بعد مجاہدین نے دیگر علاقوں کی طرف مسلسل پیش قدمی کرتے ہوئے اہم علاقوں کو فتح کیا، اس دوران اسلامی تحریک کا نام تبدیل کرکے امارت اسلامیہ کردیا گیا اور کچھ ہی عرصے میں اس نے ملک کے 95 فیصد علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کیا، اسلامی نظام نافذ کیا، مثالی امن اور انصاف قائم کیا، ملک کے طول و عرض میں چوروں اور قاتلوں کا قلع قمع کر دیا گیا، جرائم پیشہ عناصر اور مجرمین پر اسلامی حدود اور شرعی قوانین جاری کر کے ملک میں مثالی امن قائم کیا، اسلامی عدالتوں نے چوروں ، رہزنوں، قاتلوں اور دیگر شرپسندوں کو سزائیاں دیں، جس کے نتیجے میں جرائم کی شرح، اخلاقی بدعنوانی ، چوری اور دیگر فحاشی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی، اور ملک بھر میں ایک ایسا مثالی امن قائم ہوا کہ لوگ آج تک اس کو بطور مثال پیش کرتے ہیں ۔
امارت اسلامیہ کی آمد کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں اقتدار کے چھوٹے چھوٹے جزیرے ختم ہوئے، ایک متفقہ انتظامیہ اور ایک نظم و ضبط تشکیل دیا گیا ، ملک کے 95 فیصد رقبے پر امارت اسلامیہ کی مثالی حکومت قائم تھی، جہاں امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی زیرقیادت اور کمانڈ حکومتی رٹ بحال تھی، قندہار سے ایک فرمان پر تخار ، بلخ ، ہرات ، مشرقی اور جنوبی صوبوں میں گورنروں اور کور کمانڈروں کو تبدیل کرتے تھے، ادنی سپاہی سے لیکر اعلی حکام تک سب اپنے امیر کی اطاعت کرتے تھے، شرعی امیر کے کسی فیصلے اور حکم کی مخالفت کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ عوام اور خواص سب اپنے امیر کو نہایت عقیدت سے ان کا احترام کرتے تھے ۔
امارت اسلامیہ کی آمد کے ساتھ ہی مضبوط مرکزی حکومت قائم ہوئی، ایک مستحکم نظام کو فروغ ملا، تمام سرکاری اور حکومتی امور ایک مرکز سے چلائے گئے ، ملک کے تمام صوبوں میں موجود مالی وسائل کی آمدنی باقاعدگی سے اور محفوظ طریقے سے جمع کرتے تھے اور مرکزی حکومت کو منتقلی کے بعد اس کو متعلقہ اداروں کو منتقل کر دیا جاتا تھا، ہرات ، اسپن بولدک ، طورخم، شمالی صوبوں کی تمام سرحدوں اور بندرگاہوں سے حاصل ہونے والے محصول مخصوص افراد اور گروہوں کی جیبوں میں جانے کے بجائے مرکزی حکومت صحیح طریقے سے عوام پر خرچ کرتی تھی ۔
طالبان کی اسلامی تحریک نے سب سے پہلے ظالموں اور جاگیرداروں کے خاتمے پر توجہ دی، شہروں اور دیہاتوں میں غیر قانونی ہتھیاروں کو جمع کیا، اس اقدام کے نتیجے میں تمام غیر قانونی مسلح افراد کی طاقت اور اختیارات محدود ہوگئے ، جاگیرداری اور لاقانونیت کا خاتمہ ہوا ۔
امارت اسلامیہ نے تمام دھڑوں ، مقامی جارگیرداروں اور ملیشیاؤں کو ختم کرکے ملک میں غیر ملکی مداخلت کا راستہ بند کر دیا اور افغانستان کو تقسیم ہونے سے بچایا گیا ۔
امارت اسلامیہ کو اگرچہ اپنی دور حکومت کے دوران بہت سارے چیلنجوں، بیرونی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اس کے باوجود امارت کی حکومت غریب، جنگ زدہ، مظلوم اور تھکے ہوئے لوگوں کے لئے پرسکون زندگی گزارنے اور سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی تھی، جبکہ عوام جو بندوق برداروں کی ہولناکیوں ، ظلم و بربریت اور تباہی سے تنگ آچکے تھے، اسلامی حکومت اور مثالی امن کے قیام پر طالبان سے راضی اور زیادہ خوش تھے ۔
یہاں ایک تلخ حقیقت بیان کرنا مناسب سمجھتا ہوں جس کا دوست اور دشمن دونوں اعتراف کر رہے ہیں، طالبان نے اپنے دور حکومت میں ملک میں جاگیردارانہ نظام اور لاقانونیت کا خاتمہ کیا، ملک میں واحد اور مستحکم نظام قائم کیا، جس کے باعث ملک تقسیم ہونے سے بچ گیا، تنظیمی جنگوں کا خاتمہ اور مثالی امن اور انصاف کو یقینی بنانا امارت اسلامیہ کی ایک بڑی کامیابی تھی اور یہ عظیم کارنامے افغانستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے ۔
امارت اسلامیہ جس نے ہمیشہ اپنے عوام کی حفاظت اور دفاع کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور ہر مشکل گھڑی اور آزمائش میں عوام کے ساتھ تعاون کیا ہے اور مشکلات میں عوام کا ساتھ دیا ہے، اسی سلسلے میں قابض امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا جس جوانمردی سے مقابلہ کیا اور سفاک دشمن کو ملک سے فوجی انخلا پر مجبور کیا وہ اٹھارہ سالہ جہاد کا ثمرہ ہے ۔
امریکی قبضے کے خاتمے کے بعد امارت اسلامیہ ایک بار پھر حسب سابق غیر ضروری مصلحتوں اور شراکت داروں سے آزاد ادارہ قائم کرنے کے لئے پرعزم ہے، ایک مستحکم اور مضبوط ادارہ قائم کیا جائے گا، اسلامی نظام نافذ کیا جائے گا، ایک ایسا نظام جس میں تمام اقوام اور قبائل ایک قیادت میں کام کریں گے اور ایک مستحکم مثالی حکومت میں تمام افغان شامل ہوں گے ۔
کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ بہت جلد ملک میں امن کا سورج طلوع ہونے والا ہے، لوگ کرپشن، لاقانونیت، بدانتظامی اور بدامنی سے تنگ آچکے ہیں ، پوری قوم کا دیرینہ مطالبہ صرف امن کا ہے، امارت اسلامیہ کے غیور مجاہدین نے عوام کی حمایت سے 19 برس کے دوران جن اعلی مقاصد کے لئے لازوال قربانیاں دیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی، ان کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لئے امارت اسلامیہ کی قیادت پرعزم ہے، ایک مستحکم نظام کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں، لاکھوں شہداء کی امنگوں کے مطابق اسلامی نظام قائم کرنے کے لئے قائدین پرعزم اور کمربستہ ہیں، ایک ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش کریں گے کہ جس میں کرپشن اور لاقانونیت کا کوئی تصور بھی نہیں ہوگا، جس طرح ماضی میں مثالی امن قائم کیا تھا ایک بار پھر اسی طرح امن قائم کرنے کی جانب گامزن ہیں، اللہ تعالی مجاہدین اور عوام کی قربانیاں قبول فرمائے ۔

Related posts