جولائی 09, 2020

جنگی جرائم دسمبر2019

جنگی جرائم دسمبر2019

 

تحریر: سید سعید

یکم دسمبر 2019 کو صوبہ خوست کے مرکز اور ضلع علی شیرو کے درمیان ای چلتی گاڑی پر امریکی فوج نے ڈرون حملہ کیا جس میں سوار ایک خاندان کے چھ افراد شہید ہو گئے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہر میں بچے کی پیدائش کے بعد گھر والے اپنے گھر جارہے تھے ، عینی شاہدین کے مطابق اس واقعے میں تین خواتین ، دو مرد اور ایک نوزائیدہ بچہ شہید ہوگیا ۔

یکم دسمبر کو سفاک دشمن نے صوبہ پکتیکا کے ضلع سرحوضہ کے علاقے مارزکو گاؤں میں ایک چھاپے کے دوران تین شہریوں کو شہید کر دیا ۔

یکم دسمبر کو قابض امریکی فوج کے طیاروں نے صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے  بدراب درہ اور افضل خیل گاؤں میں ایک مسجد پر بمباری کی جس کے نتیجے میں چار شہری شہید ہوگئے ۔

2 دسمبر کو صوبہ فاریاب کے ضلع لولاش کے علاقے لاشی میں افغان فورسز کی گولہ باری سے مسجد کا ایک حصہ منہدم اور اس میں پڑھنے والے سات بچے زخمی ہوگئے ۔

5 دسمبر کو حملہ آوروں اور افغان فورسز نے صوبہ روزگان کے مرکز ترینکوٹ کے علاقے خنجک میں نہتے شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے ، متعدد شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ، تین افراد کو حراست میں لیا اور پھر اس علاقے پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور دو افراد زخمی ہوگئے ۔

5 دسمبر کو صوبہ فاریاب کے ضلع بلچراغ کے وسطی علاقے میں افغان فورسز کے مارٹر گولے سے 3 شہری شہید ہوگئے ۔

5 دسمبر کو صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے علاقے باباجی میں قابض امریکی فوج کے ڈرون طیارے نے چلتی گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں تین شہری شہید ہوگئے ۔

10 دسمبر کو صوبہ لوگر کے ضلع برکی بارک کے گاؤں باغک میں افغان فورسز کی فائرنگ سے چار بچے شہید ہوگئے ۔

14 دسمبر کو صوبہ قندھار کے ضلع خاکریز کے علاقے لام میں چھاپے کے دوران 6 شہری شہید اور زخمی ہوگئے ، دشمن نے کچھ لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی ۔

14 دسمبر کو صوبہ غور کے ضلع دولتیار کے علاقے خواجہ سمک میں حملہ آوروں اور افغان فورسز کی بمباری میں دو مرد ، ایک عورت اور پانچ بچے شہید ہوئے، دو مساجد اور 35 ​​مکانات کو نقصان پہنچا

15 دسمبر کو صوبہ پکتیا کے ضع سید کرم کے علاقے جہانگیر خیل میں حملہ آوروں کے ایک ڈرون حملے میں تین شہری شہید ہوگئے ۔

15 دسمبر کو صوبہ لغمان کے ضلع قرغیو کے گاؤں فرمان خیل میں سفاک دشمن نے شہریوں کے گھروں پر چھاپہ مارا ، ایک اسکول کی طالبہ کو شہید کیا ، ایک خاتون کو زخمی کردیا اور چار عام شہریوں کو گرفتار کر لیا، اس واقعے کے خلاف شہریوں نے کابل جلال آباد قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لئے بند کردیا اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔

15 دسمبر کو صوبہ فراہ کے مرکز فراہ شہر میں کچنی دھیک کے علاقے میں افغان فورسز کی فائرنگ سے دو خواتین اور ایک شخص شہید جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے ۔

16 دسمبر کو قابض امریکی فوج اور افغان اجرتی فورسز نے قندہار کے ضلع شاولی کوٹ میں چنار سپین کیچی کے علاقے میں چھاپے کے دوران آٹھ شہریوں کو شہید اور چار افراد کو حراست میں لیا ۔

16 دسمبر کو افغان فورسز نے صوبہ فراہ کے ضلع بالابلوک کے شیوان کے علاقے میں ایک ڈرائیور کو شہید کردیا ۔

16 دسمبر کو صوبہ غور کے ضلع دولتیار کے سمک کے علاقے میں اتحادی فوج کی بمباری سے 40 مکانات تباہ، خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ۔

17 دسمبر کو مشرقی صوبہ ننگرہار کے ضلع حصارک کے جوکان کے علاقے میں پولیس کی فائرنگ سے ایک شہری شہید ہوا ۔

17 دسمبر کو صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے نکڑ خیل میں امریکی اور افغان فورسز کے چھاپے کے دوران لونگ اور نعمت کے نام سے دو شہری شہید ہوئے، ایک کلینک اور متعدد دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ۔

18 دسمبر کو صوبہ خوست کے ضلع اسماعیل خیل کے علاقے ڈاڈ وال میں پولیس اہل کاروں نے علاقے کے ایک مشہور دینی عالم مولوی عبدالحکیم کو شہید کر دیا ۔

19 دسمبر کو صوبہ کنڑ کے ضلع شلطن کے علاقے مانو میں افغان فو رسز نے امیر عثمان کے نام سے ایک شخص، اس کی والدہ اور بیوی سمیت چار افراد کو زخمی کر کے اس کے گھر سے قیمتی چیزوں کو لوٹ لیا گیا ۔

19 دسمبر کو قابض امریکی اور افغان فورسز نے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے تور غر کے بٹینو گاؤں میں ایک چھاپے کے دوران 7 شہریوں کو شہید اور متعدد افراد کو زخمی کردیا ۔

23 دسمبر کو سفاک دشمن نے صوبہ روزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ کے مضافات میں شاہ منصور کے علاقے میں عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کی جس سے متعدد مکانات تباہ ہوگئے جبکہ چار بچوں سمیت 10 شہری شہید ہوگئے ۔

24 دسمبر کو مشترکہ دشمن نے صوبہ کاپیسا کے ضلع نجراب کے علاقے بشہ خان اور افغان درہ میں چھاپوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 8 شہریوں کو شہید اور چار افراد کو زخمی کر دیا ۔

28 دسمبر کو میڈیا نے خبر شائع کی کہ قندوز کے دارالحکومت میں بز قندہاری کے علاقے میں امریکی اور افغان فورسز نے چند روز سے جاری آپریشن میں عام شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے، چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کر کے علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا، اس دوران 13 شہریوں کو شہید کر دیا، متعدد مکانات کو تباہ کر دیا، دشمن کے اس آپریشن سے لوگوں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا

29 دسمبر کو صوبہ قندوز کے مرکز میں بز قندہاری کے علاقے میں قابض امریکی فوج کی بمباری سے 14 شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔

ذرائع: "بی بی سی، آزادی ریڈیو ، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال ، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیا اور بینوا ویب سائٹس” ۔

 

Related posts