اپریل 02, 2020

غلام کااختیارآقا  کا ہے

غلام کااختیارآقا  کا ہے

آج کی بات

افغانستان پر امریکہ اور حملہ آوروں کے حملے سے قبل اس ملک میں خالص اسلامی اور مستحکم نظام قائم تھا، لیکن ملک پر قابض قوتوں کے ناجائز قبضے کے آغاز کے ساتھ ہی افغانوں پر کرپٹ اور مسترد شدہ عناصر کے ذریعے ایسا نظام مسلط کردیا گیا جس کا اختیار قابض قوتوں کے پاس تھا اور ہے ۔

ان حالات میں امارت اسلامیہ کی مسلح جدوجہد کا فریق مخالف قابض افواج ہیں اور خاص طور پر امریکہ ہے جو حملہ آوروں کی قیادت کر رہا ہے، کابل انتظامیہ ابتداء سے جنگ کا اصل فریق قرار دیتی ہے اور یہ دعوی کررہی ہے کہ وہ اس کے پاس اپنے تمام فیصلوں کا اختیار ہے، لیکن پچھلے اٹھارہ سالوں کے دوران یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس فرسودہ اورکرپٹ نظام کا اختیار کس کے پاس ہے؟ کابل انتظامیہ کے سربراہ اور وزرا کی تقرری سے لے کر معمولی تبدیلیوں تک ہر چیز میں اس کو امریکہ کی منظوری درکار ہے ۔

کابل انتظامیہ کی کٹھ پتلی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے امارت اسلامیہ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ملکی مستقبل کے بارے میں اس کے ساتھ بات چیت کرنا وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے اور امریکہ کے ساتھ اصل فریق کے طور پر مذاکرات کرنا افغان تنازع کا واحد حل ہے ۔

امارت اسلامیہ اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران کابل انتظامیہ کی حیثیت اور بھی واضح ہوچکی ہے ، مذاکرات کے آغاز سے کٹھ پتلی حکومت نے کبھی کچھ کہا ہے لیکن امریکہ کی جانب سے دھمکی دینے کے بعد اس نے یوٹرن لیکر اپنے آقا کے موقف کی تائید کی ہے ۔

مثال کے طور پر کابل انتظامیہ کے سربراہ نے اصرار کیا تھا کہ بگرام میں امارت اسلامیہ کے ایک قیدی محترم انس حقانی کی رہائی ان کے لئے ریڈ لائن ہے اور اس سلسلے میں ہر فیصلے کا اختیار ان کے پاس ہے لیکن سب نے دیکھا کہ امریکہ نے ان کے موقف کو نظر انداز کیا اور اپنے مفادات اور صورتحال کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب اقدام اٹھایا، کابل انتظامیہ اپنی ریڈ لائن سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوئی کیونکہ اس میں مخالفت کرنے کی ہمت نہیں تھی، اگر ان میں سے کوئی عہدیدار امریکی فیصلے کی مخالفت کرتا تو شاید نام نہاد سلامتی کونسل کے مشیر جیسے امریکی حکام کی ملاقات اور شفقت سے محروم ہوتا ۔

جیسا کہ عام طور پر غلاموں کا اختیار آقا کے پاس ہوتا ہے ، کابل انتظامیہ کے تمام فیصلوں کا اختیار بھی امریکہ کے پاس ہے، اسی طرح افغان عوام اس غیر قانونی ، بدعنوان اور مسلط حکومت کو اپنا نمائندہ نہیں سمجھتے اور اس کے خلاف عملی طور پر جدوجہد میں مصروف ہیں، اس لئے اس کے نام نہاد سرخ اور پیلے رنگ کی لکیروں پر اعتماد کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر اللہ نے چاہا تو بہت جلد اس کرپٹ، فرسودہ اور بدنام حکومت کے بجائے ایک اسلامی ، خودمختار اور تمام افغانوں پر مشتمل نظام ملک پر قائم کیا جائے گا ۔ ان شاء اللہ

وما ذالک علی اللہ بعزیز

Related posts