اپریل 02, 2020

8 ہزار بموں کا نشانہ بننے والے کون ہیں؟

8 ہزار بموں کا نشانہ بننے والے کون ہیں؟

تحریر: شاہد غزنیوال

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے گزشتہ سال جنوری سے ستمبر تک افغانستان میں 8 ہزار بم گرا دیئے جس کے نتیجے میں 250 بچوں سمیت 800 شہری شہید ہوگئے ہیں

انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیم کی سربراہ پیٹریسیا گسمین نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ بہت سے حملے افغان صدارتی انتخابات کے دوران طالبان نے کئے تھے ، تاہم زیادہ تر حملے اور رات کے آپریشن افغان حکومت کی حمایت یافتہ فورسز (امریکی) نے کیے جس سے عام شہریوں خصوصا بچوں کو بہت نقصان ہوا ہے ۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ہیومن رائٹس واچ نے افغانستان میں امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کی جانب سے نہتے شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں رپورٹ شائع کی ہے بلکہ اس سے پہلے بھی اس نے افغانستان میں قابض امریکی فوج کو جنگی جرائم کے ارتکاب پر مورد الزام ٹہرایا تھا ۔

انسانی حقوق کی ایک سرکردہ تنظیم کی حیثیت سے ہیومن رائٹس واچ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں شعور اجاگر کرے اور مجرموں کو غریب لوگوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے سے روکے ۔ یہ مجرم اگر طاقتور ممالک کی سطح پر کسی بھی ملک کے ممبر ہیں یا متحارب دھڑوں کے ممبر ہیں یا اہم جماعتوں کے رہنما اور افراد ہیں ان کو بے نقاب کرنا ضروری ہے ۔

پچھلے 18 سالوں سے قابض امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں نے سلامتی اور امن کے نام پر افغانستان میں جنگ اور کشت و خون کا جو سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ، انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیموں اور دیگر انسانی حقوق کے حامی گروہوں، جنگی جرائم کے خلاف جدوجہد کرنے والی بین الاقوامی عدالتوں نے افغانستان میں عام شہریوں پر وحشیانہ مظالم کی مذمت کی ہے ، ان پر تنقید کی ہے اور قانونی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مجرمین کا مواخذہ کریں اور سزا دیں ۔

مثال کے طور پر معروف برطانوی اخبار دی گارڈین نے قابض افواج کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب کے حوالے سے لکھا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو چاہیے کہ وہ امریکی فوج کو افغانستان میں جنگ اور انسانی حقوق کے جرائم کا ذمہ دار قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ وہ امن کے نام پر کب تک غریب افغان عوام کو نشانہ بناتے رہیں گے؟ ۔

دی گارڈین کے مطابق امریکی فوجیوں ، سی آئی اے کے اہل کاروں اور دیگر جنگجوؤں کو افغانستان میں ہونے والے جرائم کی وجہ سے جنگی مجرم قرار دیا جائے ۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ایک پراسیکیوٹر فاتوبین سودا نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ کے دوران ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کی جائیں اور امریکی فوجیوں ، کابل حکومت کی سکیورٹی فورسز اور جنگ میں ملوث تمام اسٹیک ہولڈرز سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں پوچھا جائے ۔

لیکن امریکی حکام جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اس تجویز کی نفی کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو انسانی حقوق کے بنیادی محافظ سمجھتے ہیں ، وہ فوجداری عدالت کے حکام کو افغانستان آنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں کہ وہ یہاں امریکی اور نیٹو افواج کی جانب سے ہونے والے جرائم کو قریب سے دیکھیں ۔

اب جب ہیومن رائٹس واچ نے اپنی نئی رپورٹ جاری کی ہے اور امریکہ کی جانب سے افغانوں پر 8 ہزار بم گرائے جانے کا تذکرہ کیا گیا ہے ، تو بلا شبہ ان بموں کا نشانہ بننے والے تمام شہری عام لوگ ہیں خاص طور پر خواتین اور بچے زیادہ متاثر ہوئے ہیں لیکن امریکہ کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے ۔

Related posts