اپریل 02, 2020

ملا برادر اخوند کا پیغام اور اشرف غنی کا جواب

ملا برادر اخوند کا پیغام اور اشرف غنی کا جواب

تحریر: موسی فرہاد

کچھ دن سے سوشل میڈیا پر ملا بردار اخوند کا براہ راست انٹرویو چل رہا ہے جنہوں نے ایک ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ساتھ کیا گیا تھا جس کا نام پرنٹ لائن (پی بی ایس) ہے ۔

انہوں نے اپنے مختصر انٹرویو میں واضح طور پر کچھ نکات بیان کیے :

1 ۔ امریکہ نے پہلے افغانستان پر حملہ کرنے اور پھر اٹھارہ سال تک جنگ جاری رکھنے کی سب سے بڑی غلطی کی، اس کی غلطی کی وجہ سے یہ اتنا بڑا انسانی المیہ رونما ہوا اور اتنی بڑی تباہی ہوئی ۔

2 ۔ جب تک ہم زندہ ہیں ہم اپنے ملک کا دفاع کرنے پر مجبور ہیں (اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ ہم پر مسلط کی گئی ہے لہذا امریکہ اور اس کے اتحادی یہ نہ سوچیں کہ وہ جنگ جیت جائیں گے ۔

3 ۔ انہوں نے کہا کہ: قابض افواج کے انخلا پر افغانستان کی جنگ ختم ہوجائے گی ۔

4 ۔ انہوں نے جو آخری بات کی وہ افغانوں خصوصا کابل انتظامیہ سے متعلق تھی جس میں کابل انتظامیہ کے لئے ایک پیغام تھا ، وہ پیغام یہ تھا کہ: ہمیں افغانوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہم اور وہ دونوں ہی افغان ہیں ہمارے درمیان جتنے بھی مسائل ہیں وہ ہم خود آپس میں حل کریں گے ۔

ملا برادر اخوند کے اس پیغام کا اگر بغور جائزہ لیا جائے اور سیاسی تعصب کی عینک اتار کر سنجیدہ نظر سے دیکھا جائے تو بلا شبہ ان کی گفتگو میں افغان تنازع کے حل کے لئے اعتدال پر مبنی، سنجیدہ اور سنگین پیغام شامل ہے جو تمام افغانوں کی امنگوں کی ترجمانی ہے ۔

لیکن اس کے برعکس کابل انتظامیہ کے حامیوں کا جواب غیر معقول اور نفرت آمیز تھا جس نے اپنا چہرہ خود بے نقاب کیا اور دنیا اور افغان عوام کے سامنے اپنی اصلیت ظاہر کر دی ۔

سوئس کے ڈیووس شہر میں اشرف غنی کا خطاب:

افغانستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اشرف غنی کی سربراہی میں ایک وفد عالمی سالانہ اقتصادی اجلاس میں شرکت کے لئے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوا، یہ اجلاس مختلف ممالک کی معاشی ترقی کے ایجنڈے پر منعقد کیا گیا تھا جس میں ہر ملک کے نمائندے نے اپنے ملک کے اقتصادی منصوبوں کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کیا ۔

افغان وفد میں شامل ارکان نے کہا کہ اشرف غنی نے افغانستان کی معیشت کے بارے میں بہت ساری باتیں نوٹ کی ہیں جو اجلاس میں خطاب کے دوران افشا کریں گے اور عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائیں گے ۔

چونکہ اشرف غنی کی 5 سالہ صدارت خود افغانستان کی معاشی جمود کا سب سے بڑا سبب ہے ، لہذا یہ فطری بات ہے کہ اس کے پاس اس اجلاس میں جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ نہ دنیا اور نہ ہی افغانوں نے ان کی بات سنی، اس کے برعکس میڈیا پر جو کچھ شائع ہوا وہ مندرجہ ذیل چند نکات ہیں ۔

اشرف غنی نے صدر کی حیثیت سے کہا :

1 ۔ طالبان جنگجو جنگ سے تنگ آچکے ہیں ، وہ حکومت کے ساتھ امن چاہتے ہیں تاکہ جنگ ختم ہو جائے لیکن ان کے قائدین امن نہیں چاہتے ہیں ۔

2 ۔ دوحہ میں طالبان کے نمائندوں نے چار چار، پانچ ، پانچ شادیاں کی ہیں اور ان کی معاشی حالت اچھی ہے اس لئے وہ امن نہیں چاہتے ہیں لیکن انہوں نے نیچلی سطح کے طالبان کو جنگ پر مجبور کیا ہے ۔

ان کی باتوں میں کتنا وزن تھا اس کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا اور عام میڈیا پر سیاسی شخصیات نے جس ردعمل کا اظہار کیا اور گالیوں کی حد تک ان سے نفرت کا اظہار کیا وہ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ ان سے کتنی نفرت کرتے ہیں ۔

اقوام متحدہ کے سابق نمائندے کائی اڈائی نے لکھا ہے کہ میں اشرف غنی کی باتیں سن کر حیرت زدہ ہوا کہ ان کی گفتگو کا کیا مطلب ہوگا اور کیا اس طرح کا بیان امن عمل کو مدد دے سکتا ہے؟

اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائے:

اشرف غنی کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو جنگ سے تنگ آچکے ہیں لیکن ان کے رہنماؤں نے انہیں لڑنے پر مجبور کیا ہے ۔

جبکہ اشرف غنی کے قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نے کچھ عرصہ قبل نیٹو کے نمائندے نیکولاسکی سے ملاقات میں کہا تھا کہ طالبان جنگ اور امن کے بارے میں ایک پیج پر نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ طالبان کے رہنما اور سیاسی نمائندے جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے جنگجو اس بات پر متفق نہیں ہیں لہذا طالبان کے ساتھ امن مذاکرات بند کر دیئے جائیں ۔

یہ تو وہی بات ہے کہ "ما چہ میگم و… ما چہ میگہ ”

لہذا اگر ان میں کوئی احساس ہوتا تو ان کے مابین اتنا بڑا اختلاف نہ ہوتا کہ صدر کچھ کہتا ہے اور ان کے دست راست کچھ اور کہتا ہے، صاف ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک نے ضرور جھوٹ بولا ہے ۔

مخالفین کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیوں کہ طالبان نے 18 برس کے دوران یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سب ایک پیج پر ہیں اور ان کی صفیں انتہائی منظم ہیں، انہوں نے پوری دنیا کامیابی کے ساتھ ایک بڑا امتحان پاس کیا ہے لہذا اشرف غنی اور ان کے مشیر کے پروپیگنڈے کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔

دوسرا :

اشرف غنی نے کہا کہ طالبان رہنماوں نے دوحہ میں چار چار اور پانچ ، پانچ شادیاں کی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی تعلیمات سے باخبر اور بااحساس کوئی شخص اس کی طرح گفتگو نہیں کر سکتا اور ان کی اس گفتگو پر ہاشم لوگری جیسے زہنی بیمار شخص بھی شرمندہ ہوں گے ۔

ایک بین الاقوامی فورم میں جہاں دنیا سے 3،000 مندوبین تشریف لائے تھے اور ہر ایک نے اپنے ملک اور بین الاقوامی امور پر اظہار خیال کیا لیکن افغانستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اشرف غنی نے جس موضوع پر روشنی ڈالی اور طالبان رہنماوں پر پانچ شادیوں کا الزام عائد کیا وہ باعث شرم ہے، اسلام میں پانچ شادیاں جائز نہیں ، ہر مسلمان یہ جانتا ہے سوائے اشرف غنی کے جو اس سے قبل بھی وہ متعدد اسلام سے لاعلمی کا اظہار کرچکا ہے ۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ چار شادیاں کرنا اسلام میں کوئی جرم نہیں ہے لیکن اشرف غنی نے غیر ضروری طور پر ان شخصیات پر الزام لگایا جن میں سے اکثر وہی لوگ ہیں جنہوں نے امریکہ کے بدنام زمانہ جیلوں میں نصف دہائی قید کاٹی اور قطر کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر اخوند نے دس سال کے قریب جیل کی صعوبتیں برداشت کر کے اسلام اور ملک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اب حملہ آوروں کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے لئے مذاکراتی عمل میں مصروف ہیں ۔

لیکن اشرف غنی جو اسلام کے اصولوں سے واقف ہیں اور نہ ہی افغان قوم کی تکالیف اور درد کا احساس رکھتے ہیں، انہوں نے بین الاقوامی فورم پر جس انداز سے الزام لگایا اور بے حسی کا بیان کیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ کو بڑھانے اور امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف عمل ہیں لیکن ان کے ہتھکنڈے ناکام ثابت ہوں گے اور وطن عزیز میں ضرور امن قائم ہوگا ۔ ان شاء اللہ تعالی

Related posts