اپریل 02, 2020

ناموس کی توہین ، کابل انتظامیہ کا ایک اور کارنامہ

ناموس کی توہین ، کابل انتظامیہ کا ایک اور کارنامہ

آج کی بات

چند روز سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو چل رہی ہے، جس کو عوام کی اکثریت نے دیکھی ہوگی کہ قندھار شہر کے عینو مینہ کے علاقے میں ایک کٹھ پتلی اوباش سپاہی نے ایک معزز خاتون سے کہا کہ چہرے سے نقاب دور کریں بصورت دیگر آپ کو گولی ماروں گا، خاتون نے فریاد کرتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے گولی مارو لیکن میں نقاب دور نہیں کروں گی، میں آپ کے ہاتھ پاؤں چوموں گی لیکن میری بے عزتی نہ کرو ۔

کابل کی موجودہ ظالمانہ حکومت جو ہر طرف سے سیاسی تنہائی، فوجی شکست ، عوامی نفرت ، بین الاقوامی بداعتمادی، فورسز کی پسپائی، سیاست دانوں ، جماعتوں اور سول کارکنوں کی شدید مخالفت کا شکار ہے، اسی لئے اب وہ جانور کی طرح ہر کسی کو کاٹتا ہے، اس کی عقل و حواس جواب دے چکا ہے، وہ نہیں جانتا ہے کہ کیا کرنا ہے، اس کے لئے کونسا اقدام بہتر اور کونسا نقصان دہ ہے ۔

وہ ہر شخص کو اپنے غالب دشمن (طالبان) کی نظر سے دیکھتا ہے، حملہ آوروں کی جانب سے دیئے گئے ہتھیاروں، بندوقوں ، ٹینکوں ، طیاروں اور توپوں سے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کیونکہ وہ میدان جنگ میں طالبان کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں، ان کے حوصلے پست ہو گئے ہیں اس لئے مظلوم عوام سے وہ بدلہ لیتے ہیں اور عوام کے خلاف کسی بھی طرح کی بربریت سے دریغ نہیں کرتے ہیں ۔

عوام کے قتل عام سے سفاک دشمن کا کلیجہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی عزت لوٹنے سے، اس کے علاوہ آدھی رات کو ان کے گھروں پر چھاپے مارنا، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنا، نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا، ان پر تشدد کرنا، اب تو قومی شاہراہوں اور سڑکوں پر تلاشی لینے کے نام پر افغان عوام کی عزت کو لوٹنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے جو ظلم اور ذلالت کی انتہا ہے ۔

عام شہریوں کی ہلاکتیں اس حد تک پہنچ چکی ہیں کہ حالیہ چند دنوں میں دشمن کی ظالمانہ کارروائیوں میں 105 شہری، خواتین اور بچے شہید ہوگئے ہیں، جو ہماری مظلوم قوم پر ایک بہت بڑا امتحان ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی ان جابروں سے ضرور ایسا بدلہ لے گا جو کہ سارے حملہ آوروں اور کٹھ پتلیوں کے لئے تاریخی سبق بن جائے گا ۔ وماذلک علی اللہ بعزیز

ایسی صورتحال میں اگر عوام صبر سے کام لیں گے اور اجازت پر عمل کریں گے تو کر سکتے ہیں لیکن انہیں کٹھ پتلی دشمن کی جانب سے آقاؤں کے کہنے پر آہستہ آہستہ موت کے گھاٹ اتارا جائے گا اور ان کی توہین ہوتی رہے گی لیکن اگر وہ عزیمت سے کام لیں گے اور اس جاری ظلم و بربریت کے خلاف دلیری اور شعوری طور پر آواز اٹھائیں گے، منظم طریقے سے اس کرپٹ، جابر اور قاتل دشمن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے، خواہ وہ مجاہدین کے ساتھ شانہ بشانہ لڑیں گے، احتجاج کریں گے (جیسا کہ کئی دنوں سے پکتیا کے لوگ سراپا احتجاج ہیں)، کچھ آزاد میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنی آواز اٹھائیں گے اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے یا کسی یا کوئی اور موثر طریقہ استعمال کریں گے تو ان کی نجات ، کامیابی ، عزت اور موجودہ کرپٹ نظام سے نجات کا بہترین ذریعہ اور موثر اقدام ثابت ہوگا ۔

حملہ آور کافروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کٹھ پتلیوں کی جاری درندگی کے پیچھے کمان ان کی ہے ، توپ خانہ ، گولہ بارود ، ٹینک اور رقم سب آپ فراہم کر رہے ہیں ، آپ یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو بری الذمہ نہیں کرسکتے کہ آپ نے جنگ کا اختیار کٹھ پتلیوں کے حوالے کردیا ہے، آپ اس طرح بہانوں سے انسانی جرائم کی تاریخی ذمہ داری سے کبھی بھی برات حاصل نہیں کر سکتے ۔

اللہ کا وعدہ کبھی بھی جھوٹا نہیں ہوسکتا ، وہ ضرور پورا ہوگا ، وہ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کے دین کی سربلبندی کے لئے جہاد کریں اور اپنے مسلمہ حق کا دفاع کریں اور اس کو ضرور ذلیل کرے گا جس نے ظلم اور جبر کیا ہے ۔

Related posts