اپریل 02, 2020

2019 میں افغانوں پر کیا گزرا ؟

2019 میں افغانوں پر کیا گزرا ؟

تحریر: مصلح افغان

افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے سے قبل کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ امریکی اور مغربی ممالک کے حکمران انسانیت پسند ، دانشور اور تعلیم یافتہ لوگ ہوں گے کیوں کہ انہوں نے اپنے وسائل اور ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے مفاد کے لئے پوری دنیا میں پروپیگنڈہ کیا تھا اور خود کو دنیا کے سامنے تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ کے طور پر پیش کیا تھا ۔

یہاں تک کہ کچھ افغان باشندے ان اہل وطن کے بھی احترام کے قائل تھے جو مغربی ممالک میں رہتے تھے اور وہاں تعلیم حاصل کر چکے تھے، انہیں یہ توقع تھی کہ اگر یہ لوگ ملک کے حکمران بن گئے تو وہ انگریزوں کی طرح اپنے ملک اور قوم کے ساتھ ہمدردی اور محبت کی بنیاد پر ملک کی ترقی اور آبادی کا جذبہ رکھیں گے اور وہ اپنی صلاحیتوں سے اس جنگ زدہ ملک کو مشکلات اور مسائل نجات دلانے میں اہم کردار ادا کریں گے ۔

چونکہ عام مسلمانوں کو کافروں اور ان کے اغراض و مقاصد کے بارے میں اتنی معلومات نہیں ہیں کیوں کہ وہ اسلامی علوم سے دور رہے ہیں اس لئے وہ میڈیا کے پروپیگنڈہ سے جلد متاثر ہوتے ہیں اور کافروں کے بارے میں اچھا سوچتے ہیں ۔

اگرچہ انہیں علمائے کرام نے بار بار کافروں کے بارے میں سب کچھ بیان کیا تھا ، اسلام اور امت مسلمہ کے ساتھ امریکہ اور مغرب کی دشمنی اور غرور کے بارے میں سب کچھ واضح کیا تھا اور ان کی سازشوں سے بھی آگاہ کیا تھا تاہم وہ اس کو سیاسی مخالفت سمجھتے تھے ۔

جب 2001 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کیا اور وہ ان ہی لوگوں کو ساتھ لے آئے جن کی تربیت وہاں ہوئی تھی اور ان کے ساتھ وقت گزارا تھا، تو ان کے بارے میں افغان عوام نے یہ خیال کیا کہ وہ ملک کی ترقی کے لئے اپنی صلاحتیں بروئے کار لائیں گے، ان سے بہت سارے سادہ لوگوں نے اپنی توقعات وابستہ کر کے پروپیگنڈہ شروع کیا کہ ہم تعلیم ، معاشیات ، سیاست ، ترقی اور آبادی کے شعبوں میں حریفوں کا مقابلہ کریں گے کیونکہ دنیا کے انسان دوست اور ان کے ہاتھ تربیت یافتہ افغانی ہمارے ملک کے حکمران بن گئے ہیں ۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا چہرہ اشکارا ہوتا گیا، وہ افغان معاشرے میں جلد بے نقاب ہو گئے، انہوں نے افغانستان میں فحاشی، غیر شرعی اور غیر اسلامی اقدامات کو فروغ دینے کی کوششیں شروع کر دیں، علمائے کرام اور اس دھرتی کے حقیقی بیٹوں نے بھی کچھ عرصہ انتظار کیا ۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جارہی تھی، ملک میں بدامنی، کرپشن، لوٹ مار، قومی اور نسلی تعصبات اور جرائم پیشہ عناصر کے جنگی جرائم جیسے اقدامات سے عوام بھی جلد مغرب سے آئے ہوئے افغانوں اور دشمن سے بدظن ہونے لگے، اس لئے افغانستان کی پوری قوم نے بیک آواز اس دھرتی کے حقیقی پیروکاروں "طالبان” کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف مقدس جہاد کا آغاز کیا اور اپنی حمایت کا اعلان کیا ۔

جب ملک کے طول و عرض میں امریکہ اور دیگر قابض افواج کے خلاف جہادی کارروائیوں میں تیزی آئی تو دشمن نے بھی افغان عوام سے بدلہ لینے کے لئے ان پر ظلم و ستم کا سلسلہ تیز کر دیا، دن رات ان پر چھاپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ بڑھا دیا ۔

طالبان نے امریکیوں سے بار بار اس مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کا مطالبہ کیا لیکن امریکہ نے شروع میں طالبان کی یہ پیشکش ٹکرا کر طاقت کے استعمال پر اصرار کیا جب اس نے افغانستان میں اپنی تاریخ کی طویل جنگ لڑی اور 18 برس گزرنے کے بعد بھی افغانستان میں امن قائم ہوا اور نہ ہی یہاں منشیات اور کرپشن کا ناسور ختم ہوا بلکہ برعکس ملک کے ستر فیصد رقبے پر طالبان نے دوبارہ اپنا کنٹرول سنبھال لیا اور ان کی فتوحات میں اضافہ ہوتا گیا، ملک میں حکومتی رٹ ختم ہوئی، افغان فورسز کو بڑے شہروں کی طرف پسپا کر دیا گیا تو امریکہ کو ہوش آیا اور طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز کر کے اس بات کا اعتراف کیا کہ افغان تنازع کا فوجی حل نہیں ہے ۔

2019 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں امن مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا اور گزشتہ سال کے دوران فریقین نے گفت و شنید کے ذریعے افغان تنازع کے پرامن حل نکالنے پر متعدد بار مذاکرات کئے اس لئے افغان عوام کی امیدیں پیدا ہوگئیں کہ سیاسی عمل کے ذریعے افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے امن مذاکرات کے دوران افغان عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور ان کی توقعات کے برخلاف ملک بھر میں مظلوم عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ اتنا تیز کر دیا کہ جس کو بیان کرنے سے انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔

میڈیا نے افغان عوام کے سامنے جمہوریت کو ایک بہت بڑی نعمت کے طور پر پیش کر کے یہ پروپیگنڈہ کیا تھا کہ جیسا ہی ملک میں جمہوری نظام آئے گا تو ان کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے انہیں اظہار رائے کی آزادی کا حق دیا جائے گا، خواتین کو حقوق دیئے جائیں گے، ملک ترقی کرے گا، معیشت مضبوط اور مستحکم ہوگی، تعلیم اور صحت کے شعبے ترقی کریں گے اور یوں افغان عوام خوشحال زندگی بسر کریں گے لیکن افغان عوام نے مشاہدہ کیا کہ ملک میں بدامنی عروج پر ہے، منشیات کی پیداوار اور کرپشن میں بے انتہا اضافہ ہوا، غربت اور افلاس کا دور شروع ہوا ۔

امریکہ نے افغانستان میں جمہوریت کو فروغ دینے کے نام پر اور نظام کو مسلط کرنے کے لئے افغانوں پر کسی قسم کے ظلم و بربریت سے دریغ نہیں کیا، یہاں کے عوام پر ہر سال ہزاروں بم برسائے یہاں تک کہ بموں کی ماں کا بھی تجربہ کیا ۔

دشمن کے ان مظالم سے صرف انسانوں کو نقصان نہیں ہوا بلکہ مسلمانوں کے مقدس مقامات (مساجد ، مدارس) اور عوامی اداروں اور شادیوں اور جنازوں کو بھی نہیں بخشا اور انہوں نے جان بوجھ کر مسلمانوں اور ان کے مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا اور اسلامی اقدار کے ساتھ نفرت اور دشمنی کا مظاہرہ کیا جو افغان عوام کے لئے ہرگز قابل قبول اور قابل برداشت نہیں ہے ۔

تاریخ افغانستان میں قابض امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جمہوری نظام کے تحت ظلم و ستم اور درندگی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور اس کو افغانستان کی تاریخ میں ایک تاریک باب کے طور پر ریکارڈ کرے گی، ان مظالم کے اعدادوشمار کے مطابق قابض امریکہ اور کابل انتظامیہ کی جانب سے اس ملک میں (5423) عام اور بے گناہ شہری شہید ہوئے ہیں (3284) دیگر زخمی ہوئے ہیں (102) مساجد شہید ہوئیں ۔ (11) دینی مدارس، (18) اسکول ، 20 صحت کے مراکز (1650) شہری املاک اور گھر (1719) دکانیں اور (881) عام شہریوں کی گاڑیاں تباہ ہوگئیں ۔

یہ انسانیت پسندوں اور مغرب کے تریافتہ افغانوں کی جانب سے افغان عوام کے ساتھ ہمدردی کا وہ تحفہ ہے جنہوں نے امریکہ اور مغرب میں انسانیت دوستی اور تہذیب کی تعلیم حاصل کر کے افغان عوام کو اپنے دور حکمرانی میں دیا ۔

Related posts