فروری 17, 2020

حملہ آوروں کے مفکر اور افغانوں کے قاتل

حملہ آوروں کے مفکر اور افغانوں کے قاتل

آج کی بات

 

گزشتہ روز ایک بار بھر سفاک دشمن کے فضائی حملوں اور چھاپوں میں درجنوں شہری شہید اور زخمی ہوئے ، ان کے گھر تباہ اور انہیں بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔

مثال کے طور پر تخار کے دشت قلعہ میں 3 ، میدان وردگ کے ضلع جلگہ میں 3 ، گردیز میں 3، بادغیس کے ضلع بالا مرغاب اور سنگ آتش میں 14، زابل کے ضلع ارغنداب میں 2 ، ہلمند کے ضلع واشیر میں 2، بلخ کے ضلع چمتال میں 2، پکتیا کے ضلع زرمت میں 2 ، فاریاب کے ضلع قیصار میں 3 شہری شہید ہوگئے ہیں ۔

کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی جنہیں قابض افواج نے مفکر کا لقب دیا ہے اور مسند اقتدار پر نصب کیا ہے، نے سیکورٹی معاہدے کے نام پر ملک کو نیلام کر کے حملہ آوروں کو فضائی حملوں، رات کے چھاپوں اور بڑے ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دے دی، اور قابض دشمن کو یہ یقین دلایا ہے کہ ہر اس حرکت اور اقدام کو کچل دیا جائے گا جو آپ کے مظالم کے خلاف ردعمل ظاہر کرے گا، قابض دشمن افغانستان میں جتنا بھی ظلم کی انتہا کرے، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنائے، دیہاتوں اور مکانات کو تباہ کرے، ان تمام مظالم کا ذمہ دار اشرف غنی ہے جس نے ایک دن ضرور ان مظالم کا حساب دینا ہوگا، وہ عوام کی گرفت سے بچ نہیں سکتے ان کا محاسبہ کیا جائے گا ۔

اشرف غنی امریکی مفادات کے لئے اس قدر پرعزم ہے کہ ان کے نزدیک افغانستان اور افغان عوام کے انسانی وقار اور اقدار کی کوئی اہمیت اور قیمت نہیں ہے ، انہوں نے امریکی مفادات اور جارحیت کو دوام بخشنے کے لئے ہزاروں افغانوں کو شہید اور زخمی کر دیا، مساجد اور دینی مدارس کو مسمار کر دیا، اسکولوں اور کلینکوں کو تباہ کر دیا، اور اب بھی امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کسی قسم کے ظلم سے دریغ نہیں کر رہے ہیں ۔

افغان عوام حملہ آوروں کی جانب سے مسلط کردہ اشرف غنی کو ایک ظالم اور قاتل کے طور پر اپنا دشمن سمجھتے ہیں جو اپنے اسلاف سے بھی غلامی میں کئی گنا آگے جا چکے ہیں اور ان کا واحد مقصد اپنے آقاؤں کو خوش رکھنا اور مسند اقتدار پر ہمیشہ براجماں رہنا ہے اگرچہ ملک میں ظلم اور قتل عام کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے ۔

Related posts