فروری 17, 2020

جنگی جرائم کے ساتھ مذاکرات

جنگی جرائم کے ساتھ مذاکرات

آج کی بات

 

قطر میں جاری مذاکراتی عمل جب ایک بار امریکی صدر ٹرمپ کے ٹویٹ تعطل کا شکار ہوا اور اب ایک بار پھر کشیدہ صورتحال کا شکار ہے جہاں امریکی حکام کبھی نئے مطالبے کرتے ہیں تو کبھی تشدد کو کم کرنے کے نام پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں اور کبھی امریکہ اور کابل میں اعلی حکام کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونا دیکھائی دیتا ہے ۔

اس بار اگرچہ امریکہ کی طرف سے ٹویٹ نہیں کیا گیا ہے لیکن وہ غیر اعلانیہ طور پر امن عمل کو تعطل دے رہے ہیں ۔

مذاکرات کے عمل میں نئے مطالبات پیش کرنا اور ایسے موضوعات اٹھانا جو معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد ان کے حل کی تلاش خود معاہدے میں شامل کریں گے، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل میں سنجیدہ نہیں ہیں ۔

دوسری جانب تمام مذاکراتی عمل کے دوران امریکی فریق نے وعدہ کیا تھا کہ افغانوں کے داخلی معاملات میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا اور وہ ان ان کے اندرونی معاملات میں خود کو شامل کرنا نہیں چاہتے بلکہ اندرونی مسائل وہ خود بین الافغان مذاکرات میں حل کریں گے ۔

لیکن اب امریکی نمائندوں نے کابل انتظامیہ کو باہم دست و گریبان کر دیا ہے اور حکومت کو کئی گروہوں میں تقسیم کردیا ہے اور اب بھی انہیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے لئے ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں، ان کے انتخابات سے ڈرامہ بنایا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گندے پانی میں مچھلیوں کو پکڑنا چاہتے ہیں ۔

سب سے بدترین بات یہ ہے کہ ایک طرف امریکہ جنگ بندی اور تشدد کو کم کرنے پر زور دے رہا ہے اور دوسری طرف اس نے ملک میں ریاستی دہشت گردی کے تحت ظالمانہ چھاپوں اور حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جس سے ملک میں ایک نیا بحران پیدا ہوا ہے ۔

پچھلے دو ہفتوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں قابض امریکی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 75 افراد جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، شہید ہوئے، درجنوں مکانات ، دیہات ، کلینکس ، مساجد اور دیگر عوامی املاک تباہ ہوئے ۔

یہ کام غیر ملکی افواج نے ان افغان فورسز کی مدد سے کیا ہے جو چند ڈالر کے عوض حملہ آوروں کے لئے ملکی بلیک واٹر کے کارندوں کی طرح خدمات انجام دیتی ہیں ۔

ظالمانہ کارروائیوں کے یہ واقعات جھوٹے دعوے نہیں ہیں لیکن میڈیا پر لوگ دیکھ رہے ہیں کہ متاثرہ لوگ چیخ رہے ہیں کہ یہاں طالبان ہیں اور نہ ہی دوسرے مسلح لوگ ہیں ، دشمن کی ان ظالمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں صرف عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے ۔

حملہ آور جانتے ہیں کہ قوم نہ تو حملہ آوروں اور نہ ہی ان کے غلاموں کے ساتھ ہے ، عوام مجاہدین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، اس لئے دشمن کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں ہراساں کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ عوام کو تشدد کا نشانہ بنا کر طالبان پر دباو ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کے ناجائز مطالبات تسلیم کریں ۔

حالانکہ عام شہریوں کو نشانہ بنانا ایک واضح انسانی جرم ہے ، دنیا کے کسی قانون میں عوام کا قتل اور ان کے بچوں ، گھروں اور ان کی اقدار کو نقصان پہنچانا جنگی اور انسانی جرم ہے ۔

اگر یہ جرم نہیں ہے تو پھر انسانی ادارے تعریف کریں کہ جنگی جرم ، دہشت گردی ، نسل کشی ، سفاکیت اور اس طرح کی اصطلاحات کی وضاحت کیا ہے ؟

یہ انسانیت سوز جرائم ہیں جو حملہ آور اور ان کے ملکی بلیک واٹر کے کارندے طالبان سے محاذ آرائی کے نام پر دن دیہاڑے کرتے ہیں ، طالبان نے ان سے یہ مطالبہ نہیں کیا ہے کہ ہمیں نہ مارے جائیں بلکہ وہ صرف عام شہریوں کی جانوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں ۔

ایسی صورتحال میں جہاں ایک طرف قابض افواج نے برملا نہتے شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور دوسری جانب وہ مذاکرات کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ، کیا اعتماد کی فضا قائم کرنا اور اعتماد بحال کرنا ممکن ہے ؟

Related posts