اگست 03, 2020

مغربی میڈیا کے ہاں گدھے اہم ہیں یا انسان ؟؟

مغربی میڈیا کے ہاں گدھے اہم ہیں یا انسان ؟؟

 

حبیب مجاہد

ترجمہ : ہارون بلخی

کہتے ہیں کہ غور میں کسی لڑائی کےدوران طالبان کی فائرنگ سے مقامی جنگجوؤں کے وہ گدھے مارے گئے، جو محصور  فوجیوں کی چوکیوں کو رسد پہنچا رہاتھا۔کہانی یوں تھی کہ طالبان نے افغانستان کے دیگر علاقوں کی طرح صوبہ غور ضلع چارسدہ  میں بھی سرکاری ملیشا اور مقامی جنگجوؤں پر محاصرے کی کڑی  کو تنگ کرکے  رسد کے راستوں کو بند کردیا ہے۔ مقامی جنگجو کوشش کررہا تھاکہ  گدھوں کے ذریعے اشیاءخوردونوش اپنی چوکیوں تک لے جائیں،گھات میں بھیٹے ہوئے طالبان نے ان پر فائرنگ کی،جس میں 4 گدھے مارے گئے۔  جنگجو کمانڈر کے دو کم عمر بچے گرفتار ہوئے ۔اس کے بعد جنگجو کمانڈر اپنی بیوی کو طالبان کے پاس روانہ کرتی ہے،تاکہ ان کے بیٹوں کو رہا کردیے،طالبان اس ضمانت پر ان کے بیٹوں کو رہا کریگا کہ جنگجو ہتھیار ڈال کر دشمنی سے دستبردار ہوجائے۔ یہی واقعہ کی تمام صورتحال ہے۔

اب مغربی میڈیا بی بی سی سے لیکر بی بی سی  تک سبھی مصروف ہیں اور اس موضوع کو اتنی ہوادی اور پروان چڑھایا کہ عنقریب چین میں کروئنا وائرس کے گرم موضوع کو زیر اثر لائے۔ ٹویٹر، فیس بک وغیرہ سے لیکر معتبر ذرائع ابلاغ، ویب سائٹیں تقریبا تمام مغربی میڈیا غم  کے گیت گا رہے  ہیں۔

میڈیا اس حال میں گدھوں کی موت پر غمزدہ اور فریاد کررہی ہے  کہ اسی دن غور کے پڑوس صوبہ فراہ میں امریکی افواج اور کٹھ پتلی غلاموں نے متعدد انسانوں کو جان بوجھ کر قتل ، زخمی یا انہیں مالی نقصان پہنچایا۔ پیر کےروز صوبہ فراہ ضلع پشت کوہ کے مرکز کے قریب کٹھ پتلی فوجوں کے مارٹرگولوں سے ایک بوڑھی عورت اور ایک بوڑھا مرد اپنے ہی گھر میں شہید ہوئے۔اسی ضلع کے لنگر کے علاقے میں ایک روز قبل وحشی فوجوں نے علاقے میں آپریشن کے بہانے اصحاب صفہ نامی دینی مدرسے کو کتب اور تمام لوازمات کے ہمراہ نذرآتش کردیا۔عوام کے ایک ٹریکٹر اور 4 موٹرسائیکلوں کو چرا لیا اور عوام پر تشدد کرنے کے بعد علاقے سے چلے گئے۔ پیر کےروز شام کے وقت صدر مقام فراہ شہر کے شمالگاہ کے علاقے کو مارٹرگولوں کا نشانہ بنایا،جس میں 4 بچے زخمی ہونے کے علاوہ عوام کو مالی نقصان بھی پہنچا۔یہ صرف صوبہ غور کے ہمسائیہ صوبے فراہ کے اس روز کی صورتحال ہے،جس دن غور میں 4 گدھے مارے جاچکے تھے۔

اس سے ایک روز قبل بیرونی طیاروں نے صوبہ قندوز ضلع گل تپہ کے تپہ بریدہ کے علاقے میں بی ایچ سی نامی صحت کے مرکز پر بمباری،جس سے مرکز کا ایک محافظ زخمی اور تمام وسائل و ادویات تباہ ہوئے۔

اسی طرح صوبہ روزگان کے صدر مقام ترینکوٹ شہر کے دہ جوز کے علاقے میں جارح و کٹھ پتلی فوجوں نے عوام کے گھروں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں حاجی ولی محمد اور حاجی گلالئے کے مکانات تباہ ہونے کے علاوہ خواتین و بچوں سمیت 12 شہری شہید و زخمی ہوئے۔ اگر آپ بی بی سی یا دیگر ذرائع کی ویب سائٹوں کا بغور جائزہ لیں گے،اس حوالے سے کوئی رپورٹ اور خبر نہیں ملے گی،کیونکہ ان حادثات میں امریکی افواج کی فائرنگ سے انسان قتل ہوئے ہیں۔  یہ کہ  مغربی قاموس میں امریکی فائرنگ سے قتل ہونے والا مہدور الدم سمجھا جاتا ہے، تو اسی وجہ سے میڈیا اس کی موت کو موت ہی نہیں سمجھتی۔ مگر  مقابل فریق کی فائرنگ سے اگر جنگجوؤں کو رسد پہنچانے والا گدھامارا جائے، تو پھر میڈیا کی شہ سرخی ہوتی ہے۔ یہی مغربی تہذیب اور جدید عصر کے منطق اور عدالت کا خلاصہ ہے اور بس….

انسانی حقوق کی رپورٹ ہے کہ گذشتہ برس امریکا نے افغان عوام پر 8000 آٹھ ہزار کے لگ بھگ بم برسائے ہیں اور اتنے ہی انسان قتل کیے ہیں۔ یہ خاموش قتل عام کئی سالوں سے جاری ہے، مگر میڈیا صرف اس لیے منتظر ہے کہ جنگ میں جب امریکا کا کوئی کرائے کا گدھا مارا جائے، تو اس کے متعلق رپورٹ شائع کریگی۔

Related posts