فروری 17, 2020

انسانیت اور انسانی حقوق کے علمبردار !!

انسانیت اور انسانی حقوق کے علمبردار !!

آج کی بات

قابض امریکی فوج اور افغان فورسز نے گذشتہ رات ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد افراد کو شہید ، مکانات کو تباہ ، کلینک کو مسمار کیا ، مدرسہ جلا دیا اور بگرام جیل میں مظلوم و بے دفاع قیدیوں کے بازو اور ٹانگیں توڑ دیں اور اپنے خون میں لت پت کر دیا !!

مشترکہ دشمن نے صوبہ روزگان کے صدر مقام ترینکوٹ کے دیہ جوز کے علاقے میں دو مکانوں پر بمباری کی ، جس میں 12 شہری جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں’ شہید اور زخمی ہوئے اور اس کے علاوہ مقامی لوگوں کو بہت بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑا.

نیز حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ نے صوبہ قندوز کے ضلع گل تیپہ کے باغ شرکت کے بریدہ کے علاقے میں نہتے شہریوں کے گھروں ، ایک اسکول اور بی ایچ سی رفاہی ادارے کے زیرانتظام ایک کلینک پر بمباری کی ، جس میں اسکول اور کلینک کے محافظوں اور دیگر عام شہریوں کو جانی نقصان ہوا ہے۔

حملہ آوروں اور افغان فورسز نے صوبہ فراہ کے ضلع پشت کوہ کے لنگر کے علاقے پر چھاپہ مارا ، شہریوں کو زدوکوب کیا ، ان کے گھروں سے قیمتی سامان اور نقد رقم چھین لی اور اس علاقے میں اصحاب صفہ کے نام سے قائم ایک دینی مدرسہ کی کتابیں اور اس سے متعلقہ مواد اور عام شہریوں کی گاڑیاں جلا دیں۔

بگرام جیل کے بلاک اے میں کابل انتظامیہ کے مسلح اہل کاروں نے مظلوم قیدیوں پر حملہ کیا ، ان کو زدوکوب کیا ، تشدد کا نشانہ بنایا ، ان کے پاؤں اور ہاتھوں کو توڑ دیا اور کچھ قیدی تشدد کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے.

کٹھ پتلی فوجیوں نے جان بوجھ کر قرآن مجید اور احادیث کی کتابوں کی توہین کی ، جس سے قیدیوں کے جذبات مجروح ہوئے اور دشمن کے اس گھناؤنی حرکت کے خلاف احتجاج کیا. بزدل دشمن نے قیدیوں کے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے ان پر بہیمانہ تشدد کیا.

مظلوم عوام خصوصا خواتین اور بچوں کے ساتھ جاری ظلم و بربریت. شہریوں کے گھروں کو تباہ کرنا ، مال و دولت کو لوٹنا ، مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا ، طبی اور تعلیمی مراکز کو جلانا جمہوری فورسز کے ماتھے پر سیاہ دھبہ ہے.

ان لوگوں کے لئے جو حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے خوشنما نعروں کی وجہ سے ان سے متاثر ہیں ، وہ اس ملک میں ان قوتوں کے جاری ظلم و بربریت کے بارے میں سوچیں کیونکہ اگر آپ کے گاؤں اور محلے میں جمہوری نظام کی فورسز ایک دن ظلم کی مثال دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انسانی حقوق ، آزادی اظہار رائے ، مساوات اور انصاف کے بین الاقوامی اور ملکی ٹھیکداروں کے ایسے جرائم اور مظالم قابل برداشت ہیں؟

امارت اسلامیہ مذکورہ مظالم اور جرائم کی مذمت کرتی ہے ، اور انسانی حقوق کی تنظیموں ، ریڈ کراس اور دیگر اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ قابض افواج اور کابل انتظامیہ کے ان اور دیگر جرائم کو نظر انداز نہ کریں ، خواتین اور بچوں کو قتل کرنے ، اور صحت و تعلیم کے مراکز کو تباہ کرنے والے عناصر کو بے نقاب کریں ، ان کے مظالم کی مذمت کریں اور مظلوم قیدیوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اخلاقی مدد کریں ، انہیں ادویات اور کھانا فراہم کریں اور جاری ظلم و ستم کے خاتمے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کریں.

Related posts