فروری 17, 2020

شہری ہلاکتوں کی روک تھام

شہری ہلاکتوں کی روک تھام

آج کی بات

قابض امریکی فوج او کابل انتظامیہ نے ایک بار پھر عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور ان کے املاک کو تباہ کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، گزشتہ چند روز کے دوران سفاک دشمن کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں نہتے شہریوں خصوصا خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے اور ان کے گھروں کو تباہ کرنے کی خبریں شائع ہوئی ہیں اور ظلم کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے ۔

گذشتہ روز قندوز کے ضلع دشت آرچی میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں ایک خاندان کے 7 افراد شہید ہوئے، اسی خاندان کے افراد کٹھ پتلی حکومت میں کام کرتے تھے اور ملک پر قابض امریکی افواج کی  موجودگی کے حامی بھی تھے۔ قابض امریکی فوج کے حامیوں اور کابل انتظامیہ کے عہدیداروں کی ہلاکت پر حملہ آوروں اور نہ ہی کابل انتظامیہ نے کسی قسم کی تشویش کا اظہار کیا تو عام لوگوں کا اللہ حافظ ہو، جنہیں دن رات سفاک دشمن کے حملوں اور چھاپوں میں نشانہ بنایا جاتا ہے ۔

پانچ دن پہلے قابض دشمن نے بلخ میں ایک خادان 7 افراد کو شہید اور متعدد مکانات کو تباہ کر دیا، مقامی لوگوں نے میڈیا کو بتایا کہ اس علاقے میں طالبان موجود نہیں تھے لیکن اس کے باوجود افغان فورسز کی جانب سے مقامی آبادی پر گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے ۔

اس سے قبل حملہ آوروں اور افغان فورسز نے قندوز مرکز کے علاقے چقور قشلاق میں واقع ایک دینی مدرسے پر چھاپہ مارا جس میں 6 طالب علم ، صوبہ لغمان کے ضلع الینگار میں 6 افراد، صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین بخشک کے علاقے میں ایک مسجد پر حملے میں چار افراد، تخار کے ضع درقد میں پانچ افراد، زابل کے ضلع سیوری میں چلتی گاڑی پر ڈرون حملے میں 5 افراد شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے ۔

دشمن خواتین ، بچوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بلند و بانگ دعوے کر رہا ہے تاہم عملی طور پر وہ اپنے وعدوں کے خلاف سرگرم عمل ہے، اور انسانی حقوق اور انسانی اقدار کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے ۔

یوناما ہر تین یا چھ ماہ میں شہری ہلاکتوں کے اعدادوشمار شائع کرتا ہے اور اکثر اوقات دشمن کے مظالم کو جواز پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر یوناما اور دیگر انسانی حقوق کے تحفظ کے علمبردار ادارے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی روک تھام کے لئے پرعزم ہیں تو شہری ہلاکتوں کی رپورٹوں پر اکتفا کرنے کے بجائے بہت کچھ کرنا چاہیے ۔

امارت اسلامیہ نے شہری ہلاکتوں کی روک تھام اور قصورواروں کو سزا دینے کے لئے ایک خصوصی ادارہ تشکیل دیا ہے ۔

امارت اسلامیہ شہری ہلاکتوں کو کم کرنے کے لئے کسی بھی اقدام کا خیرمقدم کرتی ہے اور اس حوالے سے یوناما اور حملہ آوروں سے بات چیت اور مذاکرہ کرنے کے لئے تیار ہے جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی روک تھام کے لئے ایک عملی طریقہ کار وضع کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لئے تمام فریقوں کو پابند کیا جائے ۔

Related posts