فروری 17, 2020

2019 میں امارت اسلامیہ کی سیاسی سرگرمیاں

2019 میں امارت اسلامیہ کی سیاسی سرگرمیاں

تحریر: قاری عبد الستار سعید

امریکیوں کے ساتھ بات چیت

امارت اسلامیہ اور امریکہ کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کا سلسلہ جولائی 2018 میں شروع ہوا، امریکی میڈیا نے وائٹ ہاؤس کے حوالے سے خبر شائع کی کہ ٹرمپ افغانستان کے بارے میں اپنی سیاست میں ایک بنیادی تبدیلی لا رہے ہیں اور طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، ستمبر 2018 میں امریکی حکومت نے زلمے خلیل زاد کو افغانستان کے امن مذاکرات کے لئے خصوصی مندوب کے طور پر مقرر کیا۔ انہوں نے سال کے آخر تک دو بار قطر میں اور ایک بار متحدہ عرب امارات کے ابو ظہبی میں طالبان سے ملاقات اور بات چیت کی۔ مذاکرات کے تیسرے دور میں توقع کے برخلاف دیگر ممالک (سعودی عرب ، پاکستان اور متحدہ عرب امارات) نے بھی شرکت کی، مذاکرات کے اس مرحلے کے بعد سیاسی فضا میں کچھ وقت کے لئے تلخی آئی۔ ایسا لگتا تھا کہ امریکہ دباؤ کے تحت مذاکرات کے عمل کو وضع کردہ ایجنڈے سے ہٹ کر لے جانا چاہتا ہے اور قطر کے بجائے سعودی عرب یا پاکستان تک مذاکرات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے تاہم طالبان نے انکار کردیا ۔

اس طرح 2019 کا سال اس حالت میں شروع ہوا کہ مذاکراتی عمل کا مستقبل واضح نہیں تھا۔ 15 جنوری کو امارت اسلامیہ نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں اپنا مؤقف واضح بیان کیا جس کے مطابق (ہم نے افغان تنازع کے حل کے لئے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں اور رابطہ کا دفتر بھی معلوم ہے جو کہ قطر میں قائم سیاسی دفتر ہے ۔

جیسا کہ گذشتہ سال نومبر میں امریکیوں نے دوحہ اجلاس میں اتفاق کیا تھا کہ اگلی میٹنگ میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور دیگر ممالک کے خلاف افغان سرزمین کے عدم استعمال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا لیکن اب وہ اس ایجنڈے سے گریز کر رہے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق نئے عنوانات شامل کررہے ہیں لہذا امارت اسلامیہ امریکیوں کو متنبہ کررہی ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے اور امریکی حکام اپنے مشن میں سچائی سے کام نہیں لیتے ہیں تو امارت اسلامیہ بھی اس وقت تک امن مذاکرات ملتوی کرنے پر مجبور ہوگی جب تک کہ امریکہ ناجائز دباؤ ڈالنے اور منفی حربے استعمال کرنے سے باز نہیں آتا ۔

طالبان کے اس واضح مؤقف نے امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس جانے پر مجبور کردیا اور 21 جنوری کو میڈیا نے خبر شائع کی کہ زلمی خلیل زاد وفد کے ہمراہ قطر پہنچ گئے، امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسی دن ایک بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ: امریکہ نے دو نکات پر مشتمل ایجنڈہ قبول کر لیا جس میں افغانستان سے قابض افواج کا انخلا اور افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ کرنے کے نکات شامل ہیں، اس ایجنڈے کو قبول کرنے کے بعد امریکہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آیا اور آج اس کے نمائندہ نے قطر میں امارت اسلامیہ کے نمائندہ سے ملاقات کی اور امن مذاکرات کا عمل شروع کیا، یہ اجلاس کل بھی جاری رہے گا ۔

24 جنوری کو امارت اسلامیہ کی قیادت کی جانب سے جاری کردہ ایک فرمان کے تحت ملا عبد الغنی برادر کو سیاسی امور کے لئے معاون اور امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کا سربراہ مقرر کیا گیا اس اعلان کے بعد وسیع پیمانے پر ان کی تقرری کا خیرمقدم کیا گیا ۔

12 فروری کو امارت اسلامیہ کی قیادت نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لئے ایک نئے وفد کا اعلان کر دیا جس میں سابقہ رہنماوں کے علاوہ کچھ نئی شخصیات بھی شامل کی گئیں جس سے مذاکراتی وفد کی تعداد 14 تک پہنچ گئی، دو دن بعد سیاسی دفتر کے نئے سربراہ ملا برادر اخوند اور مذاکراتی وفد کے نئے ارکان امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لئے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ۔

25 فروری کو مذاکرات کا پانچواں دور شروع ہوا جو 16 دن تک جاری رہا، پہلی بار امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر اخوند نے بھی ان مذاکرات میں شرکت کی۔ طویل مذاکرات بہت سارے لوگوں کے لئے نئی بات اور غیر متوقع تھی۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے اس معاملے کو پیچیدہ قرار دیا جبکہ امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی مذاکراتی وفد کے ساتھ کسی بھی مسئلے پر گہری بات کرتے ہیں اس لئے بات چیت کا عمل طویل ہوتا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین لکھتے ہیں کہ طالبان دوسروں کی طرح نہیں ہیں جو امریکہ کے ہر مطالبے پر یس سر (ہاں جناب) کے ساتھ جواب دیتے ہیں بلکہ وہ ہر معاملے پر اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں اور معقول دلائل پیش کرتے ہیں لہذا مذاکرات طویل عرصے تک جاری رہتے ہیں ۔

12 اپریل کو امارت اسلامیہ کے مذاکرات کرنے والے وفد کے 11 ارکان، ملا عبد الغنی برادر ، شیر محمد عباس ستانکزئی ، مولوی عبد السلام حنفی ، ملا محمد فاضل مظلوم ، ملا عبدالحق وثیق ، ملا خیر اللہ خیرخواہ ، ملا نور اللہ نوری ، مولوی امیر خان متقی، شیخ مولوی شہاب الدین دلاور ، مولوی عبداللطیف منصور اور مولوی ضیاء الرحمن مدنی کے نام اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے خارج کردیئے گئے اور ان پر عائد سفری پابندیاں بھی ختم کردی گئیں۔ اس وقت امریکی وفد کے سربراہ زلمے خلیل زاد نے پھر علاقائی ممالک اور کابل کا دورہ کیا۔ کابل انتظامیہ نے 29 اپریل کو امن عمل سبوتاژ کرنے کے لئے مشاورتی جرگہ کا انعقاد کیا تاہم سیاسی جماعتوں نے اس سے بائیکاٹ کا اعلان کیا ۔

ادھر اشرف غنی کا مشاورتی جرگہ جاری تھا کہ ادھر مذاکرات کا چھٹا دور یکم مئی کو دوحہ میں شروع ہوا۔ یہ مذاکرات 9 دن تک جاری رہے۔ 9 مئی کو سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ٹویٹر پر لکھا کہ "مذاکرات کے اس مرحلے میں بات چیت کے دوران امن معاہدے کے مسودہ تیار کرنے پر پیشرفت ہوئی اور کچھ معاہدے ہوئے۔ دونوں فریق جاکر اپنی قیادت سے متنازع نکات پر مشاورت کریں گے اور اس کے بعد مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوگا ۔

27 مئی کو روس میں بین الافغان مذاکرات کا اجلاس ہوا ، یکم جون کو امارت اسلامیہ کے سربراہ شیخ ھبۃ اللہ آخوندزادہ نے عید الفطر کے موقع پر اپنے پیغام میں امن عمل کے بارے میں کہا: امارت اسلامیہ چاہتی ہے کہ وطن عزیز میں افغان عوام کی مرضی کے مطابق ایک خودمختار، اسلامی اور تمام افغانوں پر مشتمل نظام نافذ کیا جائے، اس مقصد کو حاصل کرنے کے ہم نے مسلح جدوجہد کے ساتھ مفاہمت اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں، اور اس وقت امریکہ کے ساتھ امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان مذاکرات کر رہے ہیں ۔

29 جون کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا ساتواں دور شروع ہوا جو 9 جولائی کے بین الافغان مذاکرات کے اجلاس کے انعقاد تک جاری رہا، ساتویں راؤنڈ مذاکرات کے بارے میں تمام فریقوں نے پیشرفت کی بات کی، لیکن توقع کے برخلاف مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، 7 اور 8 جولائی کو بین الافغان مذاکرات شروع ہوئے جب کہ امریکی وفد کے سربراہ زلمی خلیل زاد چین کے دورے پر روانہ ہوئے اور انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ وہ اس کے بعد امریکہ جائیں گے جہاں وہ امریکی حکام کو رپورٹ پیش کریں گے اور اس کے ساتھ مذاکرات کا یہ دور ختم ہوا ۔

3 اگست کو مذاکرات کا آٹھواں دور شروع ہوا، جو چند روز تک جاری رہا۔ میڈیا نے خبریں شائع کیں کہ ممکن ہے اس بار فریقین امن معاہدے کے مسودے پر دستخط کریں گے، اسی وجہ سے مختلف بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی بھی دوحہ گئے تاہم عین موقع پر فریقین نے مذاکرات میں پیشرفت کی بات کی اور مسودے پر دستخط نہیں ہوئے۔ بات چیت کرنے والے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ امن معاہدے کے ڈرافٹ پر 95 فیصد کام مکمل ہوا ۔

بات چیت کے دوران زلمے خلیل زاد نے 6 اگست کو ہندوستان کا دورہ کیا ، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے انخلا کے بارے میں اختلافات ختم ہو گئے اور صرف انخلا کے طریقہ کار اور تکنیکی پہلو پر بات چیت کرنا باقی ہیں۔ 7 اگست کو ملا برادر اخوند کی سربراہی میں طالبان کا وفد ازبکستان روانہ ہوا۔ مذاکرات کا یہ دور 12 اگست کو عید الاضحی کے دوسرے دن اختتام پذیر ہوا ، امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹر پر لکھا: مذاکرات کا آٹھواں دور رات کو ڈھائی بجے ختم ہوا، مفید بات چیت ہوئی اور ہم نے طے کیا کہ اگلے مرحلے پر جانے سے قبل اپنی قیادت سے مشاورت کریں گے اور اس کے بعد پھر مذاکرات شروع کریں گے ۔

20 اگست کو امریکی وفد کے سربراہ زلمے خلیل زاد کابل پہنچے اور ایک دن بعد دوحہ پہنچے ، 22 اگست کو مذاکرات کا نواں دور شروع ہوا ، جو یکم ستمبر تک جاری رہا۔ ان مذاکرات میں افغانستان میں امریکی فوج کے اعلی کمانڈر اسکاٹ میلر نے بھی حصہ لیا۔ صحافیوں کی بڑی تعداد دوحہ گئی تھی، مذاکرات کے دوران قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی نے ملا برادر اخوند اور زلمے خلیل زاد کے ساتھ مشترکہ ملاقات کی۔ جب یہ راؤنڈ مکمل ہوا تو میڈیا نے خبر شائع کی کہ مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس پر صرف دستخط باقی ہیں اور اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ مسودے پر دستخط کرنے کی تقریب کس طرح اور کہاں ہونی چاہئے۔ مذاکرات کے بعد زلمے خلیل زاد کابل گئے ، اشرف غنی سے ملاقات کی۔ ایوان صدر کے ایک اعلی عہدیدار وحید عمر نے ٹویٹر پر لکھا کہ خلیل زاد نے حتمی مسودہ اشرف غنی کو پیش کیا تھا لیکن ان کے سپرد نہیں کیا، 2 ستمبر کو خلیل زاد نے طلوع نیوز چینل کے ساتھ خصوصی انٹرویو کیا ، اس انٹرویو کے اہم نکات یہ تھے: ہم کاغذی کارروائی میں طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے حتمی نتیجے پر پہنچ چکے ہیں تاہم آخری فیصلہ ٹرمپ کریں گے اور ہم اس کا انتظار کریں گے، اگر معاہدے پر فریقین کے دستخط ہوئے تو ہم 135 دن کے اندر افغانستان میں پانچ فوجی اڈے چھوڑ دیں گے لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ہماری جانب سے امن معاہدے پر کون دستخط کریں گے۔ ہم اور افغان حکمران طالبان کے خلاف مشترکہ جنگ ہار گئے ہیں، بین الافغان مذاکرات جلد ہی شروع ہوں گے لیکن حکومت نے ابھی تک مذاکراتی وفد تشکیل نہیں دی ہے میں کسی بین الافغان مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گا لیکن قطر ، انڈونیشیا ، ناروے ، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک اس میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں۔ پہلے میرا خیال یہ تھا کہ طالبان کسی دوسرے ملک کے زیر اثر ہیں لیکن نو ماہ کی بات چیت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ طالبان سب سے زیادہ محب وطن ہیں اور ان کے بارے میں میں نے جو سوچا تھا وہ غلط تھا ۔

4 ستمبر کو خلیل زاد اور سکاٹ میلر واپس قطر گئے اور انہوں نے طالبان سے ملاقات کی ، بظاہر ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے اور جلد ہی امن معاہدے کے مسودے پر فریقین دستخط کریں گے لیکن 7 ستمبر کو جو افغانستان میں آٹھ ستمبر کی رات تھی ، امریکی صدر ٹرمپ نے اچانک ٹویٹ کر کر کے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ نے مزید لکھا کہ منصوبہ یہ تھا کہ وہ کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور امن معاہدے پر دستخط کریں گے لیکن جب طالبان نے کابل میں حملہ کر کے امریکی فوجی کو ہلاک کر دیا تو ہم نے کیمپ ڈیوڈ ملاقات اور امن عمل منسوخ کردیا ۔

ٹرمپ کے اس اچانک اعلان نے امن کے حوالے سے افغان عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اگرچہ ٹرمپ نے ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کو جواز بنا کر مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا تاہم اس معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات سے قبل طالبان سے کچھ منوانا چاہتے تھے جسے قبول کرنے کے لئے طالبان راضی نہیں تھے۔ جب یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو انہوں نے مذاکرات کا عمل منسوخ کردیا۔ ٹرمپ کے جواب میں طالبان نے اپنے اعلامیے میں لکھا (اب جب امریکی صدر ٹرمپ نے امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے اس عمل کی روک تھام سے سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو ہوگا، جس سے اس کی ساکھ متاثر، امن مخالف چہرہ بے نقاب اور جانی و مالی نقصان کے علاوہ اس کے کردار کو بھی دنیا میں شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا ۔

ٹرمپ کے اعلان کے بعد طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات میں ایک لمبی تاخیر واقع ہوئی لیکن ماہرین کا خیال تھا کہ امریکہ واپس مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائے گا، طالبان کے وفد نے ماہ اکتوبر میں پاکستان کا دورہ کیا، انڈونیشیا، روس اور ایران کے دورے کئے گئے، دورہ پاکستان کے دوران انہوں نے زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی اور نومبر میں ایک بار پھر امریکی وفد اور طالبان نے قطر میں قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں امریکی یونیورسٹی کے دو لیکچررز کے تبادلے میں تین رہنما (محمد انس حقانی ، حافظ عبدالرشید اور مالی خان) رہا ہو گئے ۔

2019 کے آخری مہینہ دسمبر میں ایک بار پھر امریکی افواج کے انخلا سے متعلق مذاکرات کا شروع ہوا، 6 دسمبر کو خلیل زاد کی سربراہی میں امریکی وفد قطر پہنچا اور مذاکرات کا دسواں دور شروع ہوا۔ 12 دسمبر کو فریقین نے مذاکرات میں تعطل کا اعلان کیا تاہم یہ کہا کہ وہ جلد ہی دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے ۔

بین الافغان مشاورتی اجلاس :

پچھلے سال افغانستان کے مختلف سیاسی و سماجی رہنماوں نے امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے رہنماوں سے ملاقاتیں کیں، اس سلسلے میں بین الافغان مذاکرات کا پہلا اجلاس 5 فروری کو ماسکو میں ہوا، اس اجلاس کی میزبانی ماسکو میں افغان کمیونٹی کے عہیداروں نے کی جس میں طالبان کی جانب سے شیر محمد عباس ستانکزئی کی سربراہی میں دس رکنی وفد اور کابل سے حامد کرزئی ، یونس قانوني ، حنیف اتمر ، محمد محقق، قطب الدین ھلال، زلمی رسول سمیت چالیس سیاسی رہنماوں نے شرکت کی، کانفرنس میں پاکستان سے آنے والے مہاجرین کے نمائندوں اور بڑی سیاسی جماعتوں کے ممبران نے بھی شرکت کی۔ یہ کانفرنس دو دن تک جاری رہی ۔

اجلاس میں شریک تمام شرکاء کا موقف یہ تھا کہ غیر ملکی حملہ آوروں کو افغانستان چھوڑنا چاہئے ، افغانستان میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہیے، آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے، سرکاری اداروں میں بنیادی اور گہری تبدیلیوں کی ضرورت ہے ، افغانستان تمام افغانوں کا مشترکہ گھر ہے اور کسی گروہ کو طاقت کے ذریعہ حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اجلاس کے آخر میں نو نکات پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں غیر ملکی افواج کے انخلا اور اسلامی نظام کے نفاذ پر زور دیا گیا، نیز اسی اجلاس میں اسی طرح کی میٹنگوں کے تسلسل پر بھی اتفاق کیا گیا ۔

اپریل کے مہینہ میں بھی اسی طرح کی ایک اور بین الافغان کانفرنس کے انعقاد کی خبریں شائع ہوئیں، تنازعات اور انسانی مطالعات کے مرکز کی جانب سے قطر میں مقیم کمیونٹی نے 20 اپریل کو اس اجلاس کے انعقاد کا انتظام کیا تھا۔ طالبان نے اپنی طرف سے کانفرنس کے لئے اپنی تیاریوں کا اعلان کیا اور شرکاء کی فہرست بھی جاری کر دی تاہم مدمقابل خاص طور پر کابل انتظامیہ نے جو بظاہر امن کے دعویدار ہیں اور عملی طور پر امن کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہیں، نے اس کانفرنس کے التواء کے لئے منفی اقدامات کا آغاز کیا، سب سے پہلے وفود کی تعیناتی اور منسوخی کا اعلان کیا اور اس کے بعد متعدد شرائط پیش کر کے اعلان کیا کہ یہ ہمارے لئے سرخ لکیریں ہیں، کانفرنس سے دو دن قبل کابل انتظامیہ نے ڈھائی سو افراد پر مشتمل ایک فہرست شائع کر دی، اگلے روز قطر سربراہی اجلاس کے منتظمین کا ارادہ تھا کہ وہ دوحہ میں شرکا کی منتقلی کے لئے طیارہ روانہ بھیج دیں لیکن کابل انتظامیہ نے شرکاء کو قطر جانے سے روک دیا اور واضح طور پر اس کانفرنس کی مخالفت کا اعلان کیا جس کے باعث کانفرنس کے سربراہ (سلطان برکات) نے اس بین الافغان کانفرنس کو ملتوی کرنے کی خبر جاری کی، تاہم مختلف ممالک سے افغان شخصیات دوحہ پہنچ گئیں جنوں نے طالبان کے ساتھ مفید ملاقاتیں کیں، اس کانفرنس کی مخالفت کرنے سے کابل انتظامیہ کا امن دشمن چہرہ مزید بے نقاب ہوا ۔

27 مئی کو روسی حکومت نے افغان روس تعلقات کی سو سالہ برسی منانے کے لئے ایک اجلاس کا اعلان کیا ، جس میں قطر میں سیاسی دفتر کے ممبران اور کابل کے متعدد سیاستدانوں نے شرکت کی۔ قطر سے امارت اسلامیہ کے سیاسی دفترکے سربراہ ملا برادر اخوند کی سربراہی میں 14 رکنی وفد ماسکو گیا ، جہاں انہوں نے روس افغانستان کے تعلقات کے حوالے سے کانفرنس میں شرکت کی، اس کے بعد 28 اور 29 مئی کو دو روزہ بین الافغان کانفرنس میں حامد کرزئی، عطا محمد نور سمیت متعدد افغان شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں، کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق کانفرنس کے تمام شرکاء نے ملک میں جنگ بندی ، عام شہریوں کے تحفظ ، قیدیوں سے متعلق امور ، افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا ، غیر ملکی مداخلت پر پابندی ، اسلامی نظام کے نفاذ ، قومی خودمختاری ، علاقائی سالمیت ، قومی اتحاد ، خواتین کے حقوق اور دیگر امور پر مفید بحث کی گئی ۔

بین الافغان مفاہمت کا تیسرا اجلاس 7 اور 8 جولائی کو دوحہ میں ہوا، جس میں کابل سے 30 ارکان پر مشتمل سیاسی شخصیات، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی، دو دن تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں مختلف امور پر رہنماوں نے تبادلہ خیال کیا اور کانفرنس کے اختتام پر آٹھ نکات پر مشتمل اعلامیہ جاری کیا گیا، کانفرنس کے شرکاء نے مسرت کا اظہار کیا جبکہ کابل سے آئے ہوئے ایک شریک نادر نادری نے کہا کہ ان کے اپنے لوگ بھی طالبان کے حامی بن گئے ۔

ان بین الافغان کانفرنسوں اور ملاقاتوں کے علاوہ پچھلے ایک سال کے دوران طالبان نے سیاسی اور سماجی شخصیات سے متعدد ملاقاتیں کیں، گزشتہ سال کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور سماجی کارکن قطر گئے اور طالبان سے ملاقات کی، ان میں سے 9 نومبر کو امن کے کارکنوں اسماعیل یون ، نظر محمد مطمئن ، شفیع اعظم ، فیض محمد زلاند ، ولی اللہ شاہین ، اسداللہ واحدی ، خیر اللہ شنواری اور متعدد دوسرے کارکنوں نے قطر کا دورہ کیا اور وہاں پر طالبان رہنماوں سے مفید ملاقات کی، انہوں نے متعدد بار سیاسی دفتر میں امارت اسلامیہ کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان سے ملاقاتیں کیں جب کہ آخری ملاقات میں ملا برادر اخوند بھی شریک ہوئے ۔

نومبر کے پہلے ہفتے میں چین میں ایک اور بین الافغان کانفرنس کے انعقاد کی خبر شائع ہوئی، ستمبر میں ملا برادر اخوند کے دورہ چین کے دوران اس ملک نے مطالبہ کیا کہ ماسکو کی طرح چین میں بھی ایک بین الافغان کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جس پر ملا بردار اخوند نے مثبت جواب دیا لیکن بعد میں شرکاء کی فہرست پر کابل حکام کے اختلافات کی وجہ سے یہ اجلاس ملتوی ہوا، بہرحال گزشتہ سال بین الافغان کانفرنسوں اور ملاقاتوں کے لحاظ سے اہم رہا جس سے ملک کی سیاسی صورتحال پر مثبت اثر پڑا ہے ۔

طالبان کے سیاسی دورے :

پچھلے سال کے دوران طالبان نے کئی اہم غیر ملکی دورے کئے اور ماضی کی بنسبت وہ اس حوالے سے خاصی سرگرم تھے اور بہت سارے ممالک کے سفارتی دورے کیے، ان دوروں کا یہ سلسلہ اس وقت سے آگے بڑھا جب سے ماہ اپریل میں گیارہ طالبان سفارت کاروں کے نام اقوام متحدہ نے بلیک لسٹ سے نکال کر ان پر سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ۔

امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر اخوند کی سربراہی میں امارت کے وفد کا پہلا بین الاقوامی دورہ 27 مئی کو روس جانے سے شروع ہوا، جس میں ماسکو میں افغان – روس تعلقات کی 100 ویں سالگرہ منایا گیا، اس تقریب میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف میزبان تھے، طالبان نے اس تقریب میں اپنا موقف پیش کیا اور اس کے بعد روس کے اعلی حکام سے بھی ملاقات کی ۔

خارجہ تعلقات اور دوروں کے حوالے سے طالبان کی کوششوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قطر کے دفتر کے سربراہ ملا برادر اخوند نے اپنے وفد کے ہمراہ گذشتہ سال کی دونوں عید کی چھٹیاں گھر سے دور غیر ملکی سیاسی دوروں پر گزاریں۔ 2 جون کو عید الفطر کے دن ملا برادر اخوند کی سربراہی میں طالبان کا وفد ایران کے غیر اعلانیہ دورے پر گیا اور اس ملک کے اعلی حکام سے ملاقات اور بات چیت کی، ایک ہفتہ بعد 11 جون کو ملا برادر اخوند اور ان کے وفد نے عوامی جمہوریہ چین کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ، جہاں انہوں نے چینی وزیر خارجہ کے نائب سمیت متعدد حکام سے ملاقات کی ۔

27 جولائی کو میڈیا نے خبر شائع کی کہ ملا برادر اخوند کی سربراہی میں طالبان کا ایک وفد انڈونیشیا گیا ہے، اس دورے کے دوران طالبان نے انڈونیشیا کے نائب صدر (یوسف کالا)  وزیر خارجہ (ریتنو لستاری) اور دیگر حکام کے علاوہ علمائے کرام کی تنظیم (نہضت العلماء) اور علماء کرام کے 60 گروپوں کے اتحاد مجلس العلماء سے تفصیلی ملاقاتیں کیں ۔

7 اگست کو ملا برادر اخوند کی سربراہی میں طالبان کے ایک وفد نے سرکاری دعوت پر ازبکستان کا دورہ کیا، یہ انڈونیشیا کے بعد طالبان کا ایک اور اہم دورہ تھا ، طالبان نے ازبکستان کے وزیر خارجہ سمیت اہم عہدیداروں سے ملاقات کی ، امام بخاری رحمہ اللہ کے مزار اور دیگر تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ سمرقند کے گورنر نے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا، ازبکستان کے حکام نے ملا برادر اخوند کو ملک کے سربراہ کی طرح پروٹوکول دیا، انہیں خصوصی جبہ دیا اور گرم جوشی کے ساتھ ان کا پرتپاک استقبال کیا، امارت اسلامیہ کے ترجمان نے اس دورے کے بارے میں لکھا (ملا برادر اخوند نے ازبک وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ ازبکستان نے افغانستان میں جن اقتصادی منصوبوں پر کام شروع کیا ہے وہ مکمل کریں جیسے افغانستان کے شمال تک بجلی کی فراہمی، دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں توسیع کے پیش نظر مزار شریف جانے والی ریلوے لائن کی تکمیل اور یقین دہانی کرائی ہے کہ امارت اسلامیہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں تعاون کرنے کے لئے تیار ہے کیونکہ یہ منصوبے خصوصی نہیں ہیں، ان کا تعلق امارت اسلامیہ سے ہے اور نہ ہی کابل انتظامیہ کے رہنماؤں کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ پوری قوم یعنی عام افغان کی ملکیت ہے اور ان کے مفاد میں ہے ۔

ماہ ستمبر کے شروع میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کیا تو طالبان نے علاقائی ممالک کے دورے شروع کیے۔ 14 ستمبر کو میڈیا نے خبر شائع کی کہ شیر محمد عباس ستانکزئی ، قاری دین محمد حنیف اور محمد سہیل شاہین سمیت تین رکنی طالبان کے وفد نے ماسکو کا دورہ کیا، جناب ستانکزئی نے روس کے سرکاری ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب بھی ہم کسی حتمی معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو امریکیوں کی جانب سے مذاکرات منسوخ کردیئے جاتے ہیں۔” یہ تیسرا موقع ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ مذاکرات کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا، اس سے قبل بارک اوباما کے دور میں بھی دو بار امن مذاکرات منسوخ کردیئے گئے تھے ۔

17 ستمبر کو قطر دفتر کے ترجمان محمد سہیل شاہین نے ٹویٹر پر لکھا کہ مولوی عبدالسلام حنفی کی سربراہی میں طالبان کے وفد نے ایران کا دورہ کیا اور اس ملک کے اعلی حکام سے ملاقات اور بات چیت کی، اسی دن ایوان صدر کے ترجمان صدیق صدیقی نے کہا کہ بیرونی ممالک کی جانب سے طالبان کی مہمان نوازی اور انہیں پروٹوکول دینا اصولوں اور جمہوری اقدار کے خلاف اقدام ہے، واضح رہے کہ کابل انتظامیہ کے اعلی حکام ہمیشہ طالبان کے سیاسی دوروں کے بارے میں اعتراض کرتے ہیں ۔

22 ستمبر کو سیاسی دفتر کے ترجمان جناب سہیل شاہین نے لکھا: ملا برادر اخوند کی سربراہی میں سیاسی دفتر کا ایک نو رکنی وفد چین کے دورے پر روانہ ہوا، وفد نے بیجنگ میں چین کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان مسٹر ڈین شیجو اور ان کے وفد سے ملاقات کی، ملاقات میں رہنماوں نے امارت اسلامیہ اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان امن مذاکرات اور معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔ افغانستان کے لئے چین کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ یہ معاہدہ افغانستان کے مسئلے کے پرامن حل کے لئے ایک اچھا فریم ورک ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔ ملا برادر اخوند نے کہا: "ہم نے افغان تنازع کے پر امن حل نکالنے کے لئے مذاکرات کئے اور ایک حتمی نتیجے پر پہنچ گئے اور معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے تیاری بھی مکمل کر لی، تاہم عین موقع پر امریکہ نے امن معاہدہ منسوخ کر کے ثابت کر دیا کہ امریکہ کسی معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا اور اس کے نتیجے میں افغانستان میں اگر پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار بھی امریکہ ہوگا، ملا برادر اخوند نے کہا کہ ہم ہر قیمت پر اپنی قوم ، ملک اور اسلامی اقدار کا دفاع کرتے رہیں گے ۔

غیر ملکی دوروں کے سلسلے میں 2 اکتوبر کو ملا برادر اخوند کی سربراہی میں اعلی سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا ، جن کے ہمراہ پاکستانی حکومت کے متعدد سویلین اور فوجی عہدیدار بھی موجود تھے ۔

اس ملاقات میں امن مذاکرات کے علاوہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین ، تعلیم ، صحت ، کاروباری مسائل ، سرحدوں اور راہداری کے مسائل اور قیدیوں کے مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس سلسلے میں پاکستانی حکام نے تعاون کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ دورہ پاکستان کے موقع پر امارت اسلامیہ کے وفد نے امریکی مذاکراتی وفد کے سربراہ زلمے خلیل زاد سے بھی ملاقات کی ۔

23 نومبر کو ملا برادر اخوند کی سربراہی میں وفد نے ایران کا دورہ کیا اور وزیر خارجہ جواد ظریف سمیت متعدد ایرانی عہدیداروں سے ملاقات اور بات چیت کی، ان دوروں کے علاوہ مختلف ممالک کے سینئر سفارتکاروں نے گذشتہ سال قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کا بھی دورہ کیا۔ سال بھی رہنماوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا، اس سلسلے میں انڈونیشیا ، ازبکستان ، چین ، روس ، امریکہ اور اقوام متحدہ کے اعلی سطحی وفود نے متعدد بار قطر میں امارت اسلامیہ کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں اور سیاسی دوروں کا یہ عمل امارت اسلامیہ کی فعال سفارتکاری کا عکاس تھا ، جس نے عالمی سطح پر طالبان سے متعلق منفی ذہنیت کو بدلا اور طالبان کی سیاسی جدوجہد کو تقویت بخشی ۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ 2020 میں بھی طالبان کو اللہ تعالی ایسی ہی کامیابیاں عطا فرمائے، یہ شہداء کے لہو کی برکت ہے جس کی وجہ سے امریکہ جیسا سپر پاور ملک بھی آج طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے، ہمیں تو وہ دور اچھی طرح یاد ہے جب امریکہ نے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان پر حملہ کیا اور کسی داڑھی اور پگڑی والے کو معاف نہیں کیا، طالبان کے لئے دو راستے تھے، شہادت یا جیل، قابض امریکی فوج نے افغانستان میں جن جرائم کا ارتکاب کیا، انسانیت شرما  گئی، تاہم امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی، آج وہی امریکہ امن کی راہ تلاش کر رہا ہے، طالبان کو اللہ تعالی نے اپنی مدد سے نوازا اور آج کے ستر فیصد رقبے پر دوبارہ ان کا کنٹرول ہے، عوام اور سیاسی جماعتوں نے طالبان کو ملک کی نجات اور آئندہ مستقبل کے لئے اہم قرار دیا، اب تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا اور اسلامی نظام کا نفاذ ناگزیر ہوچکا ہے، علاقائی اور خطے کے ممالک نے بھی طالبان سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کر کے انہیں سرکاری سطح پر پروٹوکول دیا اور افغانستان کی مضبوط سیاسی و عسکری قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو ہر حوالے سے نیک شگون ہے ۔

Related posts