اگست 03, 2020

واشنگٹن کا محافظ کیا کہتا ہے

واشنگٹن کا محافظ کیا کہتا ہے

آج کی بات

کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر طالبان جنگ کے خاتمے کے لئے تیار ہیں تو افغان معاشرہ بھی ان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے اور اگر وہ امن کے نام پر موجودہ نظام کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو حکومت اور افغان معاشرہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔” اشرف غنی نے بڑے فخر سے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ ان وعدوں کی بنیاد پر تعلقات استوار کئے ہیں جو انہوں )ٹرمپ( نے امریکی عوام سے کیے تھے ۔

اشرف غنی نے کچھ عرصہ قبل اپنی فورسز سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ "آپ کی برکت سے نیویارک اور واشنگٹن میں بم دھماکے نہیں ہوئے ہیں ۔”

جو شخص اپنی انتظامیہ اور مسلح افواج کا اصل کام واشنگٹن کا تحفظ سمجھتا ہے اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے عملی طور پر اپنے لوگوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے پھر اس نمک حرام کے پیچھے کون سا معاشرہ کھڑا ہوگا؟ افغان عوام یا امریکی حملہ آور؟ ظاہر ہے کہ ان کٹھ پتلیوں کے پیچھے حملہ آوروں کی حمایت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

افغان معاشرے نے دوسرے غلاموں کی طرح امریکی مفادات کے محافظین کو بھی مسترد کر دیا ہے اور ان کے خلاف جہاد شروع کیا ہے ، اس کی ایک عام مثال یہ ہے کہ کابل انتظامیہ کے حکام کانوائے اور فضائیہ کی مدد کے بغیر شہر سے باہر نہیں نکل سکتے ہیں اور نہ ہی اضلاع سے باہر دیہات کی طرف جا سکتے ہیں، جبکہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین ، ​​یہاں تک کہ ایک مجاہد اکیلا بھی دن رات ملک کے کسی بھی علاقے میں آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکتا ہے! تو کیا کابل انتظامیہ معاشرے کو مجاہدین کے خلاف اٹھا سکتی ہے؟

قابض دشمن اور کابل انتظامیہ نے پچھلے 18 سالوں کے دوران عوام اور مجاہدین کے درمیان فاصلے اور دوریاں پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی تاہم نہ صرف وہ عوام اور مجاہدین کے مابین فاصلہ قائم کرنے میں ناکام رہے بلکہ مجاہدین نے عوام کی مدد سے حملہ آوروں اور کٹھ پتلیوں کو بہت سارے علاقوں سے پسپا کر دیا اور مجاہدین کے کنٹرول کا دائرہ بڑے شہروں کے دروازوں تک پہنچ گیا ۔

اشرف غنی نے امارت اسلامیہ کے قطر دفتر کے رہنماوں کو مورد الزام ٹھہرایا کہ ان میں سے ہر ایک نے چار اور پانچ شادیاں کی ہیں اور وہ وہاں بڑے آرام سے مزے کر رہے ہیں جب کہ طالبان جنگجو جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ اشرف غنی جنہیں قابض دشمن نے مفکر کا لقب دیا ہے اور انہوں نے بھی یہ دعوی کیا ہے کہ لاہور کے پانچ مدارس میں دینی علوم پڑھے ہیں ، ایک سال سیرت النبی کا مطالبہ کیا ہے اور چھبیس سال کی عمر میں ایسے مضامین لکھے ہیں جو آج بھی لوگ بڑے شوق سے ان کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن وہی مفکر دین سے اتنا نابلد ہے کہ انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پوتے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو "نواسہ خدا” کہا ، (نعوذ باللہ) ۔ نماز جنازہ میں رکوع کیا اور اتنی دینی تعلیم کے حصول کے باوجود وہ یہ نہیں جانتے کہ اسلام میں ایک آدمی کے لئے پانچ شادیاں کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

امارت اسلامیہ کی قیادت اپنے اہداف کے لئے اتنی پرعزم ہے کہ غیر متوقع دباؤ کے باوجود اس نے اپنے اہداف ، مشن اور اعلی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ، امارت اسلامیہ کے قائدین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور اپنے اہل خانہ کی قربانیاں دی ہیں لیکن اسلام اور ملک کے خلاف کوئی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہی کریں گے، امارت اسلامیہ کے رہنماوں نے عملی طور پر یہ بھی ثابت کیا کہ وہ تمام تر مشکلات برداشت کریں گے لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، امارت اسلامیہ کے متعدد رہنما اور ان کے اہل خانہ کے افراد شہید ہوئے اور جیلوں میں گئے، امارت اسلامیہ کے سابق سربراہ امیر المومنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ نے جام شہادت نوش کر کے تاریخ رقم کی، اسی طرح موجودہ امیرالمومنین حفظہ اللہ کے بیٹے (عبدالرحمٰن) نے فدائی حملہ کیا، قطر دفتر کے سربراہ اور مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے کئی سال تک قید و بند کی صعوبتیں براشت کیں ۔

ہمیں اپنے قائدین پر فخر ہے جنہوں نے نہ صرف مشکل حالات میں مجاہدین کو تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ جنگ اور دفتر کے دونوں محاذوں پر السام اور ملک کے دفاع کے لئے بھرپور کوشش کی ہے اور افغان قوم کی عزت اور وقار کو برقرار رکھا ہے ۔

ہمارا جہاد تب تک جاری رہے گا جب تک کہ قابض دشمن کا مکمل انخلا یقینی اور افغان قوم کی امنگوں کے مطابق اسلامی نظام نافذ نہیں ہوگا ۔

Related posts