اگست 03, 2020

حکومت کی 18 سالہ کامیابیاں؟

حکومت کی 18 سالہ کامیابیاں؟

آج کی بات

گزشتہ روز کابل انتظامیہ کے وزیر دفاع اسد اللہ خالد نے فوج کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "افغان عوام قطر مذاکرات سے پریشان نہ ہوں۔ افغان فوج 18 سالہ کامیابیوں کو امن مذاکرات کے نام پر قربان کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔’

یہ پہلا موقع نہیں کہ کابل انتظامیہ کے کٹھ پتلی حکام امن سے اپنی نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد بار 18 سالہ کامیابیوں کی آڑ میں امن کے خلاف نفرت اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ غیر ملکی حملہ آوروں کی موجودگی، جنگ جاری رکھنے اور افغان عوام کے قتل عام پر زور دیا ہے۔ جب کہ افغان قوم کی فوری ضرورت ان کی زندگی ہے۔ بمباریوں، چھاپوں، ڈرونز، سربریت اور ظلم و ستم سے ان کی جان، مال، عزت، اولاد، گاؤں اور مسجد کا تحفظ ہے۔ خودمختار ملک میں امن اور استحکام کے ساتھ پرامن زندگی گزارنا افغان عوام کے لیے سب سے ضروری ہے۔

افغان عوام کی ضرورت یہ نہیں کہ کابل انتظامیہ کے نااہل، بدعنوان، عوام دشمن اور کٹھ پتلی حکام اپنے عہدوں پر برقرار رہیں۔ افغان عوام کا مطالبہ امن کا قیام ہے۔ اگر قیام امن کی قیمت میں ان نااہل اور ناجائز حکمرانوں کو گھر جانا پڑے تو اس سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔ عوام نہیں چاہتے کہ کٹھ پتلی حکمرانوں کی موجودگی اور ان کی خواہشات کے لیے امن کا منصوبہ قربان کیا جائے۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ کابل انتظامیہ بھی اس کو خوب جانتی ہے۔

اسد اللہ خالد اٹھارہ سالہ کارناموں کو کیا سمجھتے ہیں؟ کسی کو پتہ نہیں، لیکن شاید اس کا مقصد اٹھارہ برس کے کارناموں سے افغان عوام کا قتل عام ہے۔ شاید اس کا مقصد دن رات افغانوں کے گھروں پر چھاپوں کا ظالمانہ سلسلہ ہے۔ شاید اس کا مطلب وہ ریکارڈ کرپشن ہے، جس سے پوری دنیا میں افغانستان سرفہرست آیا ہے۔ شاید اس کا مقصد منشیات کی پیدوارا ہے، جو ان کی اور ان کے آقاؤں کی بدولت صفر سے 82 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ شاید ان کے نزدیک 18 برس کے کارنامے بلیک واٹر اور سی آئی اے کے آلہ کار اور مسلح کارندے ہیں، جو غیر قانونی طور پر نہتے شہریوں پر مظالم ڈھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ شاید اس کا مقصد یہ ہوگا کہ ایوان صدر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر خیرخانہ میں حکومت نواز کمانڈر کی ہلاکت ہے، لیکن نام نہاد اعلی کمانڈر / صدر بے خبر ہیں اور نہ ہی وہ سوال کرنے کی جرات کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کا مقصد جعلی صدارتی انتخابات کا انعقاد ہے۔ اگر ان کے بجائے کوئی اور مخلص انسان ہوتا تو شرم سے ڈوب مرتا۔ شاید اسد اللہ خالد 18 سالہ کارمانوں کو وہ آڈیو کلپ سمجھتے ہیں، جو انہوں نے اسلام، افغانیت، پشتون تہذیب اور انسانی اقدار کے برخلاف ایک فاحشہ عورت کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ شاید ان کا ہدف ایوان صدر کے اندر فحاشی کا وہ ڈرامہ ہے، جو حکام نے خود میڈیا کو پیش کیا ہے۔

اس کے علاوہ ان اٹھارہ سالوں میں افغان عوام نے اپنی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھا۔ اگرچہ کھربوں ڈالر آ چکے ہیں، لیکن 70 فیصد افغان عوام آج بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ لاکھوں غیر ملکی فوجی سکیورٹی کے نام پر آئے ہیں، لیکن کابل شہر میں عوام دن دیہاڑے چوروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ان کی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔

ایسے نااہل اور کٹھ پتلی حکام 18 برس کے کارناموں کے نام پر افغان عوام کی امیدوں اور امن کے خلاف ضرور اپنی نفرت کا اظہار کریں گے، لیکن ان کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ امن آئے گا۔ اگرچہ اس کے بدلے میں امن دشمن حکمرانوں کو گھر جانا پڑے۔ ان شاء اللہ

Related posts