ستمبر 19, 2020

تازه ترین

شدید سردی اور غریبوں کی حالت پر توجہ

شدید سردی اور غریبوں کی حالت پر توجہ

ہفتہ وار تبصرہ

وطن عزیزمیں موسم سرما کا آغاز شدید برفباری اور بارشوں سے ہوا۔اگر ایک جانب برفباری آئندہ سال کی آبادی کی نوید سناتی  ہے اور اہل وطن کے دلوں میں امید کی کرنیں روشن کرتی ہے، تو دوسری طرف کافی مشکلات کو بھی جنم  دیتی  ہے۔

برفباری اور سردی کے آغاز سے وہ لاچار اہل وطن کافی مسائل سے روبرو ہوئے ہیں،جن کا مناسب سرپناہ نہیں ہوتی۔ امن و امان اور معاشی صورت حال کی وجہ سے اس وقت ملک میں متعدد اہل وطن اپنے اپنے علاقوں سے کوچ کرگئے ہیں۔ ان میں سے بعض پانی کی قلت اور قدرتی آفات کی وجہ سے گھربار چھوڑ چکے ہیں۔ان بےگھر افراد  کی ایسی پناہ گاہیں نہیں ہے،جہاں  برف اور سردی سے محفوظ رہ سکے۔

دوسری جانب ایندھن کی قیمت میں اضافے اور غربت کی وجہ سے عوام کی اکثریت شہروں میں سردی کی ضروری  اشیاء نہیں خرید سکتے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ اور کرپٹ حکام نے دیگر معاشی شعبوں کی طرح تیل، گیس اور کوئلے کی مارکیٹ کا کنٹرول بھی اپنے قبضے میں  رکھاہواہے، یہ اشیاء بیرون ممالک سے کم قیمت میں درآمد کیا جاتا ہے اور بعد میں لاچار اہل وطن کی ضروریات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی گنا زیادہ قیمت مقرر کیا جاتاہے اور عوام کی اکثریت اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔

ایک جانب شدید سردی اور دوسری طرف کرپٹ اوربےرحم حکام کے مظالم اس  سبب بنے کہ اہل وطن کے مسائل بحرانی حالت تک پہنچے۔حکام کے زیردست میڈیا اور ابلاغی ذرائع اس بحران کے بجائے صرف اعلی حکام کے جھوٹے بیانات شائع کررہاہے   اور من گھڑت دعوؤں کو پروان چڑھارہاہے ۔

اس صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ ثروت مند حضرات کو چاہیے کہ  غریب و لاچار افغانوں کے مسائل  پر توجہ دیں۔ دین مقدس اسلام میں محتاجوں سے تعاون، صدقہ اور ان کے مسائل کو حل کرنا بہترین اعمال سمجھے جاتے ہیں۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کہ ان کے درد سے باخبر ہونا چاہیے۔ آج کل لاچار اور بےگھر افغانوں پر جو صورت حال بیت رہی ہے، تو مسلمان بھائی کو  اسے تن اور روح سے حس کرنا چاہیے، ان سے تعاون کے لیے آگے بڑھے اور حسب توفیق تعاون کریں۔

مؤمن ملت کےمصائب و تکالیف  کو امارت اسلامیہ اپنے دینی اور وجدانی ذمہ داری سمجھتی ہے، اپنے مجاہدین اور عوام کو بتلاتی ہے کہ شدید سردی کے موسم میں لاچار اہل وطن کو فراموش نہ کریں۔  اس ناگفتہ بہ حالت سے خود کو باخبر کریں،ان کے ساتھ ضروری سامان کا امداد کریں،ان کے بیماروں کے علاج میں تعاون کریں، تاکہ ایک طرف دینی ذمہ داری ادا ہوجائے اور دوسری جانب عظیم ثواب کو حاصل کریں۔

اہل وطن ظالم اور بے رحم حکام اور یا ان نام نہاد فلاحی ادارے  کی امید پر نہ رہے، جو افغان ملت کے نام سے لاکھوں ڈالر بٹورتے ہیں، مگر یہاں تمام ان کی عیاشی اور تنخواہوں پر خرچ ہوتے ہیں۔  ان نام نہاد انسان پرستوں کو صرف اور صرف اپنے نظریہ کے غلام امداد کے مستحق نظر آتے ہیں، اس کے علاوہ مصیبت زدہ عوام  کے درد کا ان کے پاس کوئی احساس نہیں ہے۔

Related posts