فروری 19, 2020

پچھلے سال کی فتوحات کا جائزہ

پچھلے سال کی فتوحات کا جائزہ

تحریر: ابو عابد زرموال

2019 اختتام پذیر ہوا جو افغانستان پر ناجائز امریکی قبضہ کا اٹھارہواں سال تھا ، حسب سابق پچھلے سالوں کی طرح 2019 میں بھی جہادی کارروائیاں پورے آب و تاب سے جاری تھیں، مجاہدین نے دشمن پر ہلاکت خیز حملے حملے کیے اور اہم فتوحات حاصل کیں ۔

چونکہ پچھلے سال کی تمام جہادی کارروائیوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہے ، ہم اس مختصر مضمون میں تمام بڑے واقعات اور فتوحات زیر قرطاس نہیں لا سکتے ہیں تاہم مجموعی طور پر ہادی کارروائیوں اور فتوحات کی ایک جامع تصویر آپ کی خدمت میں پیش کریں گے ۔

پچھلے سال کی ایک بڑی کامیابی کئی اضلاع اور متعدد بڑے آبادی والے علاقوں اور مختلف صوبوں کے قصبوں میں مجاہدین کی پیش قدمی تھی۔ مجاہدین نے اللہ  تعالی کی مدد سے ملک کے مختلف صوبوں میں 30 کے قریب اضلاع کا کنٹرول سنبھال لیا ، یعنی وہ اضلاع جن کے مراکز گزشتہ سال دشمن کے زیر کنٹرول تھے اور مجاہدین نے کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں ان کو فتح کرنے کا اعلان کیا ان کے نام یہ ہیں: قندہار کے ضلع معروف، صوبہ زابل کے پانچ اضلاع دایچوپان، میزان، ارغنداب، سیوری اور نوبہار ، صوبہ بدخشان کے دو اضلاع ارغنج خواہ اور کران و منجان، صوبہ غزنی کے ضلع گیرو، صوبہ غور کا ضلع چارسدہ ، صوبہ بادغیس کا ضلع مرغاب ، صوبہ روزگان کا ضلع چہار چینو، صوبہ تخار کے چار اضلاع خواجہ غار ، چاہ آب ، درقد اور بہارک ، صوبہ فاریاب کے دو اضلاع قرغان اور قرمقل، صوبہ سمنگان کا ضلع درہ صوف ، صوبہ بلخ کا زارع، صوبہ قندوز کے تین اضلاع دشت ارچی ، خان آباد اور قلعہ زال ، صوبہ فراہ کے دو اضلاع اناردرہ اور بالا بلوک ، صوبہ بغلان کا ضلع گذر گاہ نور ، صوبہ جوزجان کے دو اضلاع قوشتیپہ اور درزاب جبکہ صوبہ پکتیکا کا ضلع خوشامند شامل ہیں ۔

اگرچہ پچھلے سال کے تمام مہینے فتوحات سے بھرے ہوئے تھے تاہم ماہ ستمبر میں فتوحات کا سلسلہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہوا۔ اس ماہ کے شروع میں مجاہدین نے تخار ، قندوز ، بغلان ، سمنگان ، فاریاب اور فراہ صوبوں میں ضلعی مراکز پر بڑے حملے شروع کیے اور مجموعی طور پر 14 اضلاع کو فتح کیا گیا۔ خاص طور پر تخار اور قندوز صوبوں کے زیادہ تر علاقے جو پہلے دشمن کے زیر کنٹرول تھے مجاہدین کے زیر کنٹرول آگئے۔ اس مہینے کے شروع میں مجاہدین نے قندوز ، بغلان اور فراہ صوبوں پر بڑے حملے کیے اور بیشتر شہروں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور اس کے علاوہ مخالفین کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔

پچھلے سال کے دوران دور دراز دیہاتی علاقوں سے دشمن کو پسپا کرنے پر مجبور کیا گیا مجاہدین نے اہم علاقوں کو فتح کر کے عوام کو دشمن کے شر سے محفوظ کیا، مجموعی طور پر گزشتہ ایک سال کے دوران 100 سے زیادہ بڑے فوجی اڈوں اور سیکڑوں چیک پوسٹوں کو فتح کیا گیا جس کی مختصر رپورٹ درج ذیل سطور میں ملاحظہ فرمائیں ۔

ماہ جنوری میں صوبہ بلخ کے ضلع کشندہ کے مضافات میں تنچ اور چکانی کے وسیع علاقوں جو 24 دیہات پر مشتمل ہیں، سے دشمن کو پسپا کر دیا گیا ۔ مارچ کے مہینہ میں صوبہ کاپیسا کے ضلع نجراب میں وادی پچغان جو 70 دیہات پر مشتمل ہے، درہ افغانیہ جو 40 دیہات پر مشتمل ہے، درہ عین جو 17 دیہات پر مشتمل ہے، ان علاقوں میں دشمن کی 45 چوکیاں قائم تھیں، مجاہدین کی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن پسپا ہو کر پورے علاقے پر مجاہدین نے امن کا سفید پرچم لہرا دیا ۔

گذشتہ سال اپریل میں صوبہ پروان کے ضلع شنواری میں صوفی خیل کا علاقہ دشمن کے کنٹرول سے چھڑا لیا گیا، صوبہ بدخشان کے ضلع تشکان میں بڑے علاقے جو 75 دیہات پر مشتمل ہے، سے دشمن کا صفایا کر دیا گیا، اسی مہینے کے دوران بدخشان کے ضلع جرم کے مضافات م یں یباب اور سوچ کے علاقوں پر بھی مجاہدین نے اپنا کنٹرول سنبھال لیا ۔

گزشتہ سال کے مئی میں صوبہ بغلان کے ضلع وسطی بغلان میں حسن تال کا علاقہ، جس میں تقریبا 5  ہزار گھر موجود ہیں، دشمن سے پاک کردیا گیا۔ اسی طرح صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے علاقے ناوہ اور نوروز خیل جو 14 دیہاتوں پر مشتمل ہیں، بھی دشمن کے قبضہ سے آزاد کر کے عوام کو پرامن زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا گیا، اسی ماہ کے دوران صوبہ سرپل کے ضلع سوزمہ قلعہ کے مضافات میں سلطیار، سفر قشلاق اور گورکاب خورد کے علاقے مجاہدین کے زیر کنٹرول آگئے، نیز اسی مہینے کے دوران صوبہ سر پل کے ضلع سوزما قلعہ کے مضافات میں سلطیار ، سفر قشلاق اور گورکاب پر مجاہدین نے امن کا پرچم لہرا دیا، جبکہ صوبہ غور کے فیروز کوہ کے علاقے بایکان اور شب شدہ میں بھی اہم مقامات پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول سنبھال لیا ۔

فتوحات کے سلسلے میں جون میں بھی بڑی فتوحات دیکھنے میں آئیں ، جس کے مطابق صوبہ غور کے ضلع تولک کے علاقے گاوکش اور منارہ میں مجاہدین نے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے دشمن سے 25 موٹرسائیکلوں سمیت بھاری مقدار اسلحہ بھی ضبط کر لیا ۔ صوبہ تخار کے ضلع اشکمش میں زربانہ، صوفی حبیب، پنجری ، پنجشیری ، گوربندی ، خوگیانی اور درہ کلان کا وسیع و عریض علاقہ مجاہدین نے فتح کر کے دشمن کو پسپا کر دیا، اسی طرح ضلع بہارک میں عنبرکوہ اور نمک آب کے علاقوں پر بھی مجاہدین نے سفید پرچم لہرا دیا، اس کے علاوہ مجاہدین نے صوبہ بلخ کے اضلاع دولت آباد اور نہر شاہی میں بھی کامیاب کاروائیاں کیں ، جس کے نتیجے میں دولت آباد کے مضافات دھشتان، سورخکبند، درآباد، شنگل آباد ، ہاشم آباد ، شیخ آباد اور پای مشہد کے نام سے 7 دیہات اور دو فوجی اڈوں کو مجاہدین نے فتح کرنے کا اعلان کر دیا، ضلع نہر شاہی میں شہرک ترکمن ، بلوچان ، کمپرک ، ہوتکول ، نوارد کمپرک اور تکہ ترکمن کے نام سے 6 دیہات سے دشمن کا صفایا کر دیا گیا، اسی طرح ضلع خاص بلخ میں بھی دیوالی، برمزید، اصفہان، توخی، نیازیاں ، کولمبو ، بہاؤالدین ، ​​ارغون ، حسین خیل ، ماشک ، قیصر خیل ، پلاس پوش ، بوریاباب ، غلام جان ، ھیواد ، پنجاب ، جریب ، دہ بی بی ، چقش اور دولت زی کے نام سے 19 دیہات سے دشمن کا صفایا کر دیا گیا ۔

جون میں صوبہ فراہ کے ضلع پرچمن کے پاسک نوا کے متعدد دیہات سے دشمن کا صفایا کر دیا گیا، اسی طرح صوبہ بدخشاں کے صدر مقام فیض آباد کے مضافات میں 27 دیہات پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول سنبھال لیا اور بھاری مقدار اسلحہ بھی ضبط کر لیا ۔

جولائی میں صوبہ بغلان کے نہرین گاؤں کا اہم علاقہ اور اس کے قریب 13 دیہات سے دشمن کو پسپا کر دیا گیا، اسی طرح صوبہ غور کے ضلع تیورہ میں ینیلی کا علاقہ فتح کیا گیا، اسی ماہ کے دوران صوبہ فاریاب کے ضلع بلچراغ کے مضافات میں کولیان، قلعہ ، توغلہ مست ، وبلک قشلاق کے علاقوں میں دشمن کی دس چوکیاں فتح کر کے مجاہدین نے بھاری مقدار اسلحہ بھی برآمد کیا ۔

اگست میں صوبہ سر پل کے ضلع گوسفندی میں شیک یار کا علاقہ کلیئر کردیا گیا اور کمانڈر نے تمام اہل کاروں سمیت مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دئے۔

ستمبر کے مہینے کے دوران جو فتوحات حاصل کی گئیں وہ سب سے زیادہ ہیں، صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کا اہم علاقہ بازی خیل پر سفید پرچم لہرا دیا گیا، اسی طرح زابل کے ضلع شاجوی شہر پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول حاصل کر کے دشمن کو پسپا کر دیا گیا ۔

اسی طرح بغلان میں چودہ دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے دوران دشمن کی 22 چوکیاں ، تین بڑے فوجی اڈے اور 25 دیہات مجاہدین کے زیر کنٹرول آگئے ۔

نومبر میں صوبہ بغلان کے پل خمری کے مضافات میں جوئے نو اور احمد زئی کے علاقے سے دشمن کا صفایا کر دیا گیا ۔

اور دسمبر میں بدخشاں کے ضلع نوسی کے علاقے شوریان پر مجاہدین نے قبضہ کرلیا اور تین کمانڈروں سمیت تیس اربکیوں کو زندہ گرفتار کرلیا گیا۔ اسی ماہ کے دوران صوبہ دایکندی کے ضلع گیزاب میں بھی دشمن کو شکست دے دی گئی ۔

لہذا مذکورہ فتوحات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح 2019 میں امارت اسلامیہ نے سیاسی محاذ پر اہم کامیابی حاصل کی اسی طرح عسکری لحاظ سے بھی اہم فتوحات حاصل کر کے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور اہم اضلاع اور علاقوں  پر امن کا سفید پرچم لہرا کر مظلوم عوام کو دشمن کے شر سے نجات دینے میں کامیابی حاصل کی ۔ ہمیں امید ہے کہ وہ دن دور نہیں کہ ملک کے تمام جغرافیہ پر ایک خودمختار اسلامی حکومت قائم ہوگی اور پورا ملک مکمل آزادی کی نعمت سے لطف اندوز ہوگا ۔ ان شاء اللہ تعالی

Related posts