اپریل 02, 2020

2019 میں شہری ہلاکتوں اور نقصانات کی مختصر رپورٹ

2019 میں شہری ہلاکتوں اور نقصانات کی مختصر رپورٹ

تحریر: سید سعید

2019 میں قابض امریکی فوج اور افغان فورسز کے چھاپوں، فضائی حملوں اور گولہ باری کے نتیجے میں متعدد مکانات ، مساجد ، مدارس ، اسکول ، کلینکس اور دکانیں تباہ ہو گئیں اور نہتے شہریوں کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ۔

درج ذیل سطور میں ہم آپ سے شہری ہلاکتوں کے کچھ اعداد و شمار شیئر کریں گے ، جو درست دستاویزات پر مبنی ہیں، ان واقعات کی نوعیت ، مقام ، تاریخ ، وجہ ، شہداء اور زخمیوں کی تعداد بھی اس  تحریر میں شامل کریں گے جو مہذب دنیا کے علمبرار امریکہ کے منہ پر طمانچہ ہے ۔

جنوری :

3 جنوری کو صوبہ بادغیس کے ضلع مرغاب کے اسحاقزو علاقے میں افغان فورسز کی فائرنگ سے دینی مدرسے کے 5 حفاظ شہید ہوئے ۔

5 جنوری کو صوبہ قندہار کے ضلع شاولی کوٹ کے بالائی شاولی کوٹ اڈے پر قابض امریکی فوج نے بمباری کی جس کے نتیجے میں 6 خواتین اور 7 مرد شہید جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے ۔

7 جنوری کو قابض امریکی فوج اور افغان فورسز کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں صوبہ ہلمند کے ضلع گرمسسر کے علاقے صفر میں دو ڈاکٹروں سمیت متعدد افراد شہید ہوگئے، دشمن کی اس کارروائی میں درجنوں دکانیں، ایک کلینک اور گاڑیاں تباہ ہوئیں، مقامی لوگوں کے مطابق چھاپے اور بمباری کے نتیجے میں جانی نقصان کے علاوہ 40 ملین افغانی کا مساوی نقصان ہوا ہے ۔

12 جنوری کو صوبہ بادغیس کے ضلع جووند کے پنج باز کے علاقے میں حملہ آوروں اور افغان فوجیوں نے چھاپہ مارا اور دس شہریوں کو شہید کردیا ۔

15 جنوری کو صوبہ فاریاب کے شیرین تگاب کے علاقے فیض آباد اور کوہ صدر میں افغان فورسز کی فائرنگ کے واقعے میں سات شہری شہید اور زخمی ہوئے ۔

16 جنوری کو صوبہ قندھار کے ضلع میوند میں قابض امریکی فوج اور افغان فورسز نے طالبان کے ساتھ جھڑپ کے بعد علاقے پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 20 شہری شہید اور چار دیگر زخمی ہوگئے ۔

23 جنوری کو صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے پرانے بازار کے علاقے میں حملہ آوروں اور افغان فورسز نے بمباری کی جس میں خواتین اور بچوں سمیت 17 شہری شہید اور پانچ افراد زخمی ہوگئے ۔

فروری :

8 فروری کو حملہ آوروں اور افغان فوجیوں نے صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے چوران قلعہ ، پوزکی ، خانو اور بارکزئی دیہات میں چھاپہ مارا اور پھر بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک خاندان کے پانچ مرد ، گیارہ خواتین اور بچے شہید ہوگئے جبکہ پندرہ خواتین اور بچے زخمی ہوئے۔ چھاپے میں سفاک دشمن نے ایک مسجد ، تین مکانات ، دو دکانیں اور آٹھ گاڑیاں جلا دیں ۔

18 فروری کو صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی کے علاقے تاتنگ میانو پر قابض امریکی فوج نے چھاپہ مارا اور لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس میں 8 شہری شہید اور زخمی ہوئے ۔

22 فروری کو قابض امریکی فوج اور افغان فورسز صوبہ میدان وردگ کے ضلع جلگہ میں متعدد دیہات (سرتوگی ، چتو ، دریانیو اور بابک) پر چھاپہ مارا اور اس کے بعد اس علاقے پر بمباری کی۔ اس حملے میں شرتوغی کے علاقے جگڑن نامی ایک شخص کا گھر مکمل طور پر تباہ ہوا جس میں 9 افراد شہید ہوگئے۔ اس گاؤں کی مسجد پر بھی بمباری کی گئی اور پانچ نمازی اس میں شہید ہوگئے۔ اسی طرح چتو گاؤں میں دو مکانات کو تباہ اور تین شہریوں کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا۔ درانی کے علاقے میں ایک بزرگ شہری کو بھی شہید کردیا۔ گاؤں بباک میں ایک دینی مدرسہ پر بمباری کی گئی اور اس کو مکمل طور پر تباہ کر کے اس کا ایک چوکیدار بھی شہید کر دیا ۔

26 فروری کو میڈیا نے خبر شائع کی کہ صوبہ سر پل کے ضلع سنگ چارک کے مضافات میں افغان فورسز کے حملے میں عام شہریوں کے تین مکانات تباہ ہوگئے اور سو گھرانے اس علاقے سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ۔

مارچ :

5 مارچ کو صوبہ لغمان کے ضلع پاد پش کے علاقے گیروچ میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملوں میں نو عام شہری شہید ہوگئے ۔

8 مارچ کو قابض امریکی فوج اور افغان فورسز نے صوبہ ننگرہار کے ضلع حصارک کے ناصر خیل کے علاقے میں عام شہریوں کے گھروں پر چھاپہ مارا ، مکانات کے دروازے توڑ دیئے ، ان کا قیمتی سامان چھین لیا اور آخر کار اس علاقے پر بمباری کی، جس میں ڈاکٹر نظرگل کے نام سے ایک شہری کے خاندان کے تیرہ افراد ، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے ، شہید اور دو افراد زخمی ہوگئے ۔

9 مارچ کو مشترکہ دشمن نے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل کے رخہ کے علاقے میں ایک چھاپے کے دوران 8 شہریوں کو شہید کیا ۔

12 مارچ کو سفاک دشمن نے صوبہ غزنی کے ضلع شیلگر کے شیرکلا کے علاقے میں شہری گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں آٹھ افراد شہید ہوئے، مقامی لوگوں نے لاشوں کو نکالنے کا کام شروع کیا تو ان پر دوبارہ حملہ کیا گیا جس میں 10 شہری شہید اور زخمی ہوئے ۔

20 مارچ کو صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے علاقے شرافت میں قاتل امریکی فوج نے طالبان جیل کو نشانہ بنایا جہاں سرکاری قیدیوں کو جیل میں نظربند کیا گیا تھا، اس حملے میں درجنوں قیدی شہید ہوگئے ۔

22 مارچ کو قابض امریکی فوج نے قندوز کے مرکز تیلا وکہ کے علاقے میں ایک مکان پر حملہ کیا ، جس میں 13 افراد شہید ہوگئے۔ اس واقعہ کے بعد عام شہریوں نے لاشوں کو اٹھا کر گورنر ہاوس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا  اور قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔

23 مارچ کو جارحیت پسندوں نے صوبہ غزنی کے ضلع زنخان میں گوگیر اور فقیر گاؤں پر چھاپہ مارا ، گوگیر گاؤں میں ایک دینی مدرسہ اور ایک مسجد کو شہید کیا ، جس میں 6 طلباء شہید اور  تین طلبہ زخمی ہوئے، اسی طرح فقیر قلعہ میں بھی ایک مسجد شہید اور متعدد مکانات تباہ ہوئے ۔

25 مارچ کو کابل کے ضلع سروبی کے کرگو قلعہ میں شہری آبادی پر بمباری کی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 14 افراد شہید ہوئے ۔

اپریل :

یکم اپریل کو صوبہ قندھار کے ضلع شاولی کوٹ کے سرخ بید کے علاقے میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں نو شہری شہید اور چار افراد زخمی ہوگئے ۔

2 اپریل کو حملہ آوروں نے دایکندی اور روزگان صوبوں کے درمیان شاہراہ پر سویلین گاڑی پر ڈرون حملہ کیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 8 شہری شہید ہوگئے ۔

3 اپریل کو قابض امریکی فوج اور افغان فورسز نے صوبہ پکتیکا کے ضلع نکی کے علاقے عاشقی گاؤں پر چھاپہ مارا ، مکانات کے دروازے توڑ دیئے اور بارہ شہریوں کو گھروں سے نکالا اور ان سب پر فائرنگ کر کے شہید کر دیا شہداء کے نام: (گاوں کے پیش امام مولوی عبد القیوم ، حمد اللہ ، قوی اللہ ، محمد اللہ ، عبد اللہ ، محمد ولی ، پایگل ، ظاہرجان ، محمد نسیم ، رفیق اللہ ، ذبیح اللہ اور موسیٰ خان(

7 اپریل کو قابض امریکی فوج نے صوبہ لوگر کے صدر مقام پل عالم میں قبائلی عمائدین کے ایک اجتماع پر ڈرون حملہ کیا جس میں 7 قبائلی رہنما شہید اور زخمی ہوگئے ۔

7 اپریل کو مشترکہ دشمن نے صوبہ خوست کے ضلع باک کے اسپرکی اور شام خیل گاؤں پر چھاپہ مارا ، اور 50 شہریوں کو گرفتار کیا گیا ۔

18 اپریل کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کی وادی صد مردی میں ایک بم دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 8 شہری شہید ہوگئے ۔

21 اپریل کو صوبہ پکتیکا کے ضلع سروضہ کے مارزکو گاؤں میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں سات شہری شہید ہوئے ۔

26 اپریل کو صوبہ پروان کے مرکز کے قریب خلازیو کے علاقے میں ایک چھاپے کے دوران سات شہری شہید ہوئے ۔

27 اپریل کو صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل کے علاقے لمن بازار کے قریب قابض امریکی فوج اور افغان فورسز نے عام شہریوں کے گھروں پر چھاپہ مارا ، آٹھ شہریوں کے گھروں پر بمباری کی جس میں دس شہری شہید اور ساتح افراد زخمی ہوئے، شہداء کے نام: (محسود خان ، مولوی شمال ، عبد الولی ، محمد رسول ، نجیب خان ، محمد علی ، جلندر ، شیرباد خان ، روزی خان اور محمد) ۔

28 اپریل کو قابض امریکی فوج اور افغان فورسز نے صوبہ لوگر کے ضلع محمد آغا کے برگ گاؤں پر چھاپہ مارا، ان کے گھروں کے دروازے توڑ دیئے ، پانچ بچوں اور ایک بزرگ شخص پر کتے چھوڑ کر زخمی کر دیا اور تین افراد کو گرفتار کرلیا ۔

29 اپریل کو صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں حملہ آوروں اور افغان فوجیوں کے چھاپے کے دوران سات شہری (یارگل ، قادر ، سیف اللہ ، حنیف اللہ ، صبور ، شکور اور غفور) شہید اور دو خواتین زخمی ہوگئیں ۔

مئی :

یکم مئی کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع سید آباد کے علاقے باقر خیل کے قریب شش قلعہ میں افغان فورسز کی فائرنگ سے ایک خاتون اور دو معصوم بچیاں شہید جبکہ سات بچے اور خواتین زخمی ہوگئیں

2 مئی کو حملہ آوروں اور افغان فورسز نے صوبہ غزنی کے ضلع دہ یک کے نیاز قلعہ اور سر انداز قلعہ پر چھاپہ مارا ، گیارہ شہریوں کو شہید کیا اور لوگوں کے گھروں سے قیمتی سامان اور رقم چھین لی ۔

5 مئی کو قابض امریکی فوج نے صوبہ فراه کے ضلع بکوا کے داشکین ، پلوشی اور سپین کاریز کے علاقوں پر اور صوبہ نیمروز کے ضلع دلارام کے شاگی اور دورہی علاقوں پر بمباری کی جس میں خواتین اور بچوں سمیت 80 شہری شہید اور زخمی ہو گئے ۔

13 مئی کو قابض امریکی فوج نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع دایمرداد کے (موکا ، کونج ، دادوخیل ، احمد خیل ، سپین وال ، قولزنگی اور کوڑی) کے دیہاتوں پر چھاپہ مارا جس سے لوگوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا اس چھاپے میں ایک مدرسے کے سات حفاظ اور دو خادم شہید ہوگئے ۔

19 مئی کو قندھار کے ضلع شاولی کوٹ کے علاقے البک کاریز میں حملہ آوروں اور داخلی فوجیوں کے چھاپے میں سات شہری شہید اور دو افراد زخمی ہوئے ۔

27 مئی کو صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل کے ماستو کے علاقے میں پانچ قبائلی رہنماؤں (قبائلی بزرگ کلام خان ، قبائلی رہنما ماشوم خان ، قبائلی بزرگ ضمیر خان ، قبائلی بزرگ شیر گل اور قبائلی رہنما ولی خان) پر حملہ آوروں نے حملہ کیا۔ جس میں وہ سب موقع پر شہید ہو گئے ۔

27 مئی کو حملہ آوروں اور افغان فورسز نے صوبہ پکتیا کے ضلع جانی خیل کے ورگوئی گاؤں پر چھاپہ مارا ، جس سے لوگوں کو مالی نقصان پہنچا ۔

جون :

13 جون کو قابض امریکی فوج اور افغان فورسز نے صوبہ فراہ کے ضلع بالابلوک کے شیوان کے علاقے میں تین گاڑیوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں سات مسافر شہید اور دو زخمی ہوگئے ۔

14 جون کو صوبہ زابل کے ضلع میزان کے گاؤں پوٹی میں قابض امریکی فوج اور افغان فورسز کے چھاپے کے دوران 10 شہری شہید ہوئے ، شہداء میں سے ایک شخص ضلع  خاک افغان کا شہری تھا اور دیگر شہری اسی علاقے کے لوگ تھے جو اپنے کھیتوں میں شجرکاری میں مشغول تھے ۔

15 جون کو صوبہ غزنی کے ضلع شلگر کے دو علاقوں ملا گلان اور جوی میں امریکی ڈرون حملوں میں 7 شہری شہید ہوگئے تھے ۔

29 جون کو حملہ آوروں اور افغان فورسز نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع چک کے علاقے نیک پایکول درہ میں ایک دینی مدرسہ پر چھاپہ مارا ، مدرسہ کے7 طلبا کو شہید کیا ، مدرسہ کی عمارت کو تباہ کیا ۔

جولائی :

8 جولائی کو صوبہ بغلان کے ضلع ڈنڈ شہاب الدین کے علاقے کتب خیل پر امریکی فوج نے ڈرون حملہ کیا جس میں ایک خاندان کے سات افراد شہید ہوگئے ، مقامی لوگوں نے شہدا کی لاشوں کو پل خمری تک لایا گیا اور شدید احتحاج کیا ۔

13 جولائی کو سفاک دشمن نے میدان وردگ کے ضلع جغتو کے لاغری ، کمال خیل ، چوپان اور بلند خیل دیہاتوں پر چھاپہ مارا ، ان کے گھروں کے دروازوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا، مویشیوں کو ہلاک کیا جبکہ چار بھائیوں سمیت سات شہریوں کو شہید کردیا ۔

14 جولائی کو قابض امریکی فوج نے ظالمانہ کارروائیوں کے نتیجے میں صوبہ دایکندی کے ضلع گیزاب کے خلچ کے علاقے میں خواتین اور بچوں سمیت 23 شہریوں کو شہید کر دیا ۔

15 جولائی کو امریکی طیاروں نے صوبہ لوگر کے وسط میں کاماخیل کے علاقے میں ایک مسجد پر بمباری کی جہاں لوگ قرآن پاک کی تفسیر سننے کے لئے بیٹھے تھے ، اس بمباری میں کمال خیل مسجد مکمل طور پر شہید ہوئی جبکہ میں موجود 24 افراد شہید اور 10 زخمی ہوئے ۔

17 جولائی کو صوبہ ہلمند کے ضلع موسی قلعہ کے میاں دشت کے علاقے میں عام شہریوں کے مجمع پر امریکی فوج نے ڈرون حملہ کیا ، جس میں 17 افراد شہید ہوئے جن میں زیادہ تر وہ لوگ شامل تھے جو ملک کے دیگر علاقوں سے محنت مزدوری کے لئے یہاں آئے تھے ۔

28 جولائی کو افغان فورسز نے صوبہ پروان کے ضلع سیاگرد کے قمچاق اور دشتک علاقوں میں متعدد شہری مکانات ، مساجد اور مدرسوں پر چھاپے مارے ، سات شہریوں کو شہید اور متعدد افراد کو حراست میں لیا ۔

اگست :

11 اگست کو حملہ آوروں اور داخلی فوجیوں نے صوبہ پکتیا کے ضلع زرمت کے کولاگو کے علاقے میں چھاپہ مارا اور گیارہ شہریوں کو شہید کردیا جن میں اساتذہ ، طلباء اور عام شہری شامل تھے، اس واقعہ کے خلاف علاقے کے عوام نے شدید احتجاج کیا اور واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملوث اہل کاروں کو سزا دی جائے ۔

16 اگست کو صوبہ غزنی کے ضلع گیلان کے حضرت شاہ بازار میں حملہ آوروں نے ایک گاڑی پر ڈرون حملہ کیا ، جس میں خواتین اور بچوں سمیت نو شہری شہید ہوگئے ۔

19 اگست کو سیکورٹی اہل کاروں نے صوبہ لوگر کے دارالحکومت کے قریب داد خیل کے علاقے میں دو شہریوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا، طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق شہدا کے لواحقین نے میڈیا کو بتایا کہ آدھی رات کو این ڈی ایس فورس کے اہل کا روں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور خاندان کے دو افراد (محمد امین ، جو حال ہی میں سعودی عرب سے آئے تھے اور ایک 16 سالہ نوجوان) کو کمرے سے نکال کر گھر کے صحن میں دھماکہ خیز مواد پر بٹھایا اور پھر دھماکہ کر دیا جس سے ان کے جسم کے پرخچے اڑ گئے، محمد امین کے والد محمد رحیم نے طلوع نیوز کو بتایا کہ ان کے بیٹے اور نواسے نے کیا جرم کیا تھا جنہیں گھر کے احاطے میں شہید کر دیا، لوگر کے پولیس چیف نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایک وفد مقرر کیا ہے اور تحقیقات کے بعد اس واقعے کی تمام تفصیلات میڈیا کو بتائیں گے ۔

20 اگست کو صوبہ روزگان کے ضلع چہارچینو کے علاقے ہوشی میں افغان فورسز کے حملے میں 8 شہری شہید ہوگئے ۔

31 اگست کو قابض ماریکی فوج اور افغان فورسز نے صوبہ غزنی کے ضلع ناوا میں بازار پر چھاپہ مارا اور 100 دکانوں ، دو کلینکس ، 4 ہوٹلوں ، 3 آئل پمپوں کو آگ لگا دی ۔

ستمبر :

یکم ستمبر کو صوبہ فاریاب کے ضلع گرزیوان کے مرکز کے قریب افغان فورسز کی بمباری خواتین اور بچوں سمیت 12 شہری شہید اور آٹھ دیگر زخمی ہوگئے، فاریاب کی صوبائی کونسل کے ممبر صبغت اللہ سیلاب نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے ۔

4 ستمبر کو صوبہ ننگرہار کے مرکز جلال آباد شہر کے عرب گاؤں میں افغان فورسز کے چھاپے میں چار عام شہری (قاضی قادر ، جہانزیب زاخیل وال ، صبور زاخیل وال اور بہادر زاخیل وال) اپنے گھر میں شہید ہوگئے ۔

5 ستمبر کو صوبہ روزگان کے ضلع چہارچینو کے سیگزی اور زمبوری علاقوں میں حملہ آوروں اور داخلی فوجیوں کے چھاپے اور بمباری میں 26 شہری شہید ہو گئے ۔

5 ستمبر کو صوبہ روزگان کے ضلع خاص روزگان کے شیخی ، نیکروز ، بادینزئی اور شیخان علاقوں میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملوں میں گیارہ شہری شہید ہوئے ۔

6 ستمبر کو قابض امریکی فوج نے صوبہ بدخشان کے ضلع وردوج میں ایک مکان پر بمباری کی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ایک خاندان کے 6 شہری شہید ہوگئے ۔

19 ستمبر کو حملہ آوروں نے صوبہ لوگر کے مرکز کے کماخیل کے علاقے میں ایک مسجد پر بمباری کی اس کے بعد مقامی لوگ لاشیں ملبے سے نکالنے میں مصروف تھے جن پر دوباری بمباری کی گئی ان دونوں حملوں میں سات افراد شہید ہوگئے ۔

19 ستمبر کو صوبہ ننگرہار کے ضلع گویانو کے وزیر اور تور اوٹ کے علاقے پر قابض امریکی فوج نے ڈرون حملہ کیا، صوبائی کونسل کے رکن اجمل عمر کے مطابق اس حملے میں 40 شہری شہید اور 30 سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔

22 ستمبر کو صوبہ ہلمند کے ضلع موسی قلعہ کے کونجک اور شواروز کے علاقوں پر قابض امریکی فوج اور افغان فورسز نے چھاپہ مارا اور بمباری کی جس میں خواتین اور بچوں سمیت 93 افراد شہید اور زخمی ہو گئے، کابل انتظامیہ نے دعوی کیا کہ اس کارروائی میں فورسز نے طالبان کو بھاری نقصان پہنچایا لیکن عام شہریوں ، قبائلی عمائدین اور ہلمند صوبائی کونسل کے ممبروں کے مطابق یہ حملہ شادی کی ایک تقریب پر کیا گیا جس میں عام شہری شہید ہوئے ۔

اکتوبر :

13 اکتوبر کو صوبہ بدخشان کے ضلع وردوج کے باشند گاؤں پر قابض امریکی فوج نے بمباری کی جس میں 15 مکانات تباہ ہوگئے اور خواتین اور بچوں سمیت تیرہ شہری شہید اور 20 زخمی ہوگئے ۔

15 اکتوبر کو صوبہ میدان وردگ کے ضلع نرخ کے صد مردہ اور سنگ قلعہ علاقوں میں امریکی فوج کے ڈرون حملوں میں سات شہری شہید اور دس گھر تباہ ہوگئے ۔

نومبر :

3 نومبر کو صوبہ پکتیا کے ضلع زازی اریوب میں قابض امریکی فوج کے ڈرون حملے میں 6 شہری شہید ہوگئے ۔

6 نومبر کو افغان فورسز نے صوبہ بادغیس کے ضلع اب کمری کے میدقل کے علاقے میں ایک مکان پر بمباری کی جس کے نتیجے میں گھر کے سربراہ سمیت نو خواتین اور بچے شہید ہوگئے ۔

دسمبر :

یکم دسمبر کو حملہ آوروں نے صوبہ خوست کے مرکز اور ضلع علی شیرو کے نواح میں سویلین کار پر حملہ کیا ، جس سے ایک خاندان کے 6 افراد شہید ہوگئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہر میں بچے کی پیدائش کے بعد گھر والے اپنے گھر جارہے تھے ، عینی شاہدین کے مطابق اس واقعے میں تین خواتین ، دو مرد اور ایک نوزائیدہ بچہ شہید ہوا ۔

5 دسمبر کو قابض امریکی فوج اور افغان فورسز نے صوبہ روزگان کے مرکز ترین کوٹ کے علاقے خنجک میں عام شہریوں کے گھروں پر چھاپہ مارا، متعدد شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ، تین افراد کو گرفتار کیا اور پھر اس علاقے پر بمباری کی ، جس میں 12 افراد شہید ہوگئے ۔

14 دسمبر کو صوبہ غور کے ضلع دولت یار کے علاقے خواجہ دسمک کے علاقے میں حملہ آوروں اور افغان فورسز کی بمباری میں دو مرد ، ایک خاتون اور پانچ بچے شہید ، دو مساجد اور 30 ​​مکانات کو نقصان پہنچا ۔

16 دسمبر کو قابض امریکی فوج نے صوبہ قندھار کے ضلع شاولی کوٹ میں چنار کے سپین کیچا کے علاقے میں ایک چھاپے کے دوران آٹھ شہریوں کو شہید اور چار افراد کو حراست میں لیا ۔

16 دسمبر کو صوبہ غور کے ضلع دولت یار کے دسمک کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے حملے میں 40 مکانات تباہ ہوگئے اور خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری شہید اور زخمی ہوئے ۔

19 دسمبر کو سفاک دشمن نے صوبہ ننگر ہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے تور غر میں ایک چھاپے کے دوران سات شہریوں کو شہید اور متعدد افراد کو زخمی کردیا ۔

23 دسمبر کو قابض امریکی فوج نے صوبہ روزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ کے علاقے شاہ پور پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد مکانات تباہ ہوگئے اور چار بچوں سمیت 10 شہری شہید ہوگئے ۔

24 دسمبر کو قابض امرکی فوج کی ظالمانہ کارروائی کے نتیجے میں صوبہ کاپیسا کے ضلع نجراب کے پچہ خان اور افغان درہ کے علاقوں میں خواتین اور بچوں سمیت 8 افراد شہید اور چھ افراد زخمی ہو گئے

29 دسمبر کو صوبہ قندوز کے دارالحکومت کے مضافات میں بز قندہاری کے علاقے میں قابض امریکی فوج کے فضائی حملے میں 14 نہتے شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔

ذرائع: "بی بی سی، آزادی ریڈیو ، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال ، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیا اور بینوا ویب سائٹس” ۔

 

 

Related posts