ستمبر 19, 2020

تازه ترین

جعلی انتخابات اعداد و شمار کے آئینے میں

جعلی انتخابات اعداد و شمار کے آئینے میں

ہفتہ وار تبصرہ

تقریبا گذشتہ ایک سال سےالیکشن کے لیے جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے والے انتخابات  کے نتائج کا اعلان آخرکار  تین کے بعد کیا گیا اور کوشش جاری ہے ،تاکہ فریب اور دھاندلی کے ذریعے اسے حیثیت دی جائے۔یہاں یہ بحث مطلوب نہیں ہے کہ نام نہاد صدارتی الیکشن کتنا شفاف ہے، اختیارات کس کے پاس ہیں اور کن اغراض کےلیے منعقد کیاگیا؟؟؟ بلکہ ان اعداد وشمار کے بناء پر کہ الیکشن کمیشن نے اعلان کیا، صرف اس الیکشن کے جعلی ہونے پر گفتگو کرینگے۔

تعدد کی اعداد وشمار کی رو سے افغانستان کی آبادی تین کروڑ تک پہنچتی ہے۔ الیکشن قوانین کےمطابق آبادی کا نصف حصہ ان شرائط پر مساوی ہو،کہ وہ ووٹ کا حق استعمال کریں۔ الیکشن کمیشن کا  کہنا ہے کہ گذشتہ انتخابات میں تقریبا اٹھارہ لاکھ ووٹ ڈالے گئے۔اس حساب سے ہم کہہ سکتے ہیں، کہ ووٹ کا حق رکھنے والوں میں دس فیصد سے کم افراد نے الیکشن میں شرکت کی ہے، اگر ووٹ ڈالنے کی تعداد آبادی کی تناسب سے لی جائے، تو پانچ فی صد سے کم افغانوں نے انتخابات میں شرکت کی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوے فی صد سے زائد افغانوں نے عملی طور پر الیکشن کا بائیکاٹ کیا  اور اس جھوٹے عمل میں شرکت سے اپنے آپ کو بچا لیا۔ اگر کسی اور ملک میں اس طرح عوامی ردعمل سے الیکشن کا سامنا ہوجائے، تو اسے جمہوریت کاسقوط اور زوال سمجھاجاتا ہے۔ گذشتہ انتخابات بےشک مسلط کردہ جمہوریت کے منہ پر افغان عوام کا زوردار طمانچہ تھا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اشرف غنی  نو لاکھ ووٹ حاصل کرچکا ہے اور اس کم تعداد ووٹ میں ممکن وہ صدر منتخب ہوجائے۔ اگر اشرف کے اس نو لاکھ ووٹ کو شفاف شمار کیا جائے،تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف نو لاکھ افراد جو افغانستان کی آبادی کی اڑھائی فی صد بنتی ہے، اشرف کی حمایت کررہا ہے،جن میں سے ممکن اکثریت ان افغانوں کی ہیں، جو کابل انتظامیہ سے سیراب  اور سیکورٹی فورسز وغیرہ ادارے میں کام کررہے ہیں۔

مگر الیکشن کمیشن کے ان اعداد وشمار پر کڑی تنقید موجود ہے، اشرف غنی کےحریف ان کے ووٹ کو نو لاکھ سے بھی کم سمجھتاہے  اور کہتے ہیں کہ اشرف غنی نے منظم دھاندلی سے اتنے ووٹ حاصل کرلیا ہے۔ اب تک اعلان شدہ ووٹ کے متعلق الیکشن کمیشن کو سترہ ہزار سے زائد شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔

بالفرض اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان شدہ ووٹ شفا ف ہو، تو اس کا معنی یہ ہے کہ اشرف غنی صرف اڑھائی فی صد افغانوں کی حمایت سے خود کو جائز صدر سمجھتا ہے۔جب اٹھارہ برس قبل افغانستان پر امریکا حملہ کررہا تھا، تو امریکا نے عالمی تحقیقاتی تنظیم کی اعداد وشمار کی رو سے کہا کہ افغانستان کے صرف 16 فی صد عوام طالبان کی حمایت کررہا ہے، اسی لیے طالبان کی حکومت قانونی نہیں ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ امریکا کس طرح 16 فی صد حمایت یافتہ حکومت کو غیرقانونی سمجھتا، مگر اب اس رژیم کو تسلیم کرتا ہے، جس کا صرف اڑھائی فی صد عوام حمایت کررہا ہے اور اس حمایت کے خلاف بھی سترہ ہزار انتقادات اور شکایتیں موجود ہیں !!؟؟؟

درج بالا اعداد وشمار اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان مؤمن اور خودمختار ملت پر مسلط کردہ کٹھ پتلی رژیم اور مزدور حکام عوام میں کسی قسم کے قابل حساب حمایت کے حامل نہیں ہے۔ عوام طاقت کے بل بوتے پر مسلط کردہ حاکمیت کو تسلیم کرتا اور نہ ہی اسے افغانستان کی سیاسی نمائندوں کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ الیکشن سے بائیکاٹ کے حوالے سے امارت اسلامیہ کی صدا کو لبیک کہنا، اس بات کی نقد ثبوت ہے کہ عوام کا امارت اسلامیہ کیساتھ محکم نظریاتی اور معنوی تعلق ہے۔

Related posts