اگست 03, 2020

افغانستان میں مشرقی ترکستان (یغور) مجاہدین کی موجودگی بےبنیاد ہے

افغانستان میں مشرقی ترکستان (یغور) مجاہدین کی موجودگی بےبنیاد ہے

ایک روز قبل چند مغربی ذرائع ابلاغ میں رپورٹیں شائع ہوئیں،کہ گویا  شام سے ریلیز ہونیوالی ایک ویڈیو میں دیکھائی دے رہا ہے  کہ افغانستان میں مشرقی ترکستان (یغور) مجاہدین کا کوئی گروہ ہے،انکے ہاتھ اسلحہ ،  ہاموی ٹینک اور فوجی رینجر گاڑیاں استعمال کررہا ہے۔

امارت اسلامیہ ان رپورٹوں کی شدید تردید کرتی ہے،افغانستان میں کوئی بیرونی شہری موجود نہیں ہے،جب امریکا نے افغانستان پر جارحیت کی اور یہاں وسیع لڑائی چھڑگئی، تو روس کے خلاف جہاد کے زمانے میں آنے والے تمام بیرونی مجاہدین اور شہری افغانستان سے چلے گئے،ان میں سے اکثر اپنے اپنے ممالک  اور بعض دیگر عربی ممالک لوٹ گئے ،وہاں ان کے لیے سہولیات فراہم کی گئیں۔

مگر افغانستان میں ایسےگروہوں اور مسلح افراد موجودگی  کےمتعلق افواہیں اور رپورٹیں صرف پروپیگنڈہ ہے، اس وجہ سے اس پروپیگنڈے کو پھیلایا جارہا ہے کہ امارت اسلامیہ اور پڑوسی ممالک کے درمیان بےاعتمادی  جنم دی جائے اور خطے میں امریکی استعمار کی موجودگی کے لیے بہانے ڈھونڈے جائے۔

ملک شام میں ریلیز ہونیوالی ویڈیو میں افغانستان کے متعلق شائع ہونیوالی تصاویر، جو افغان فوجیوں اور سویلین کے لباس میں نظر آرہے ہیں، یا امریکی ہاموی ٹینک اور رینجر گاڑیوں کی تصویریں اور اسلحہ دکھائی دی جا رہی ہے، وہ تصاویر امارت اسلامیہ کے کسی جہادی یونٹ کی ویڈیو سے لی گئی ہیں،جو بدبینی پھیلانے اور ناجائز فائدہ اٹھانے کی خاطر استعمال ہوئے ہیں۔

امارت اسلامیہ عالمی برادری اور خطے کے ممالک کو تسلی دیتی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور دیگر ممالک سے بھی ایسے ہی مؤقف کی امید کرتی ہے ۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

09  ربیع الثانی 1441 ھ بمطابق 06 دسمبر 2019 ء

Related posts